افریقی ملک نائیجیریا میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے حالات کشیدہ

افریقی ملک نائیجیریا کے مرکزی شہر لاگوس میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا اور مشتعل افراد نے کئی عمارتوں کو آگ بھی لگا دی۔

مظاہرین کے مطابق  پولیسی کے مظالم اور سماجی شکایات کے باعث ہونے والے مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے کرفیو نافذ کیے جانے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک ہزار سے زائد افراد کے ہجوم پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے خصوصی ذیلی ادارے سپیشل اینٹی رابری سکواڈ (سارس) کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی جبکہ نائیجیریا کے صدر محمد بوہاری نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تسلیم کیا کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے۔

براعظم افریقہ کے معاشی طور پر سب سے مضبوط ملک میں فائرنگ کے واقعے کے خلاف سیکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ لاگوس کے گورنر نے ابتدائی طور پر فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا بیان دیا تاہم بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے سر پر گولی لگنے سے ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے، کرفیو کے باوجود فائرنگ کے واقعے کے جائے مقام کے اطراف کئی عمارتیں نذرآتش کردی گئیں اور آرمی کے دستے سڑکوں پر گشت کرتے رہے ایک اور ضلع میں بس اسٹیشن کو آگ لگادی گئی اور نوجوانوں اور پولیس کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔

بدھ کے روز سے شروع ہونے والے اس واقعہ کے بعد گزشتہ روز جمعہ کے دن تک کئی شہریوں کے نائیجیرین فوج کی فائرنگ سے مرنے کی اطلاعات تھیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق سارس کے محکمے کو ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین اب بھی سڑکوں پر ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >