بھارت میں بھوک و افلاس ایشیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہے،گلوبل ہنگر انڈیکس

بھوک افلاس کی فہرست میں بھارت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے آگے

بھوک افلاس کی فہرست میں بھارت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک پر بازی لے گیا، گلوبل ہنگر انڈیکس میں بھارت94ویں نمبر پر موجود۔

دنیا میں بھوک کی صورتحال کے بارے میں ’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق 107 ممالک کی فہرست میں پاکستان 88ویں نمبر پر جبکہ بھارت 94ویں نمبر پر موجود ہے۔

جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں سری لنکا 64ویں، نیپال 73ویں، بنگلہ دیش 75ویں، اور افغانستان 99ویں نمبر پر ہے۔ گلوبل انڈیکس میں نیچے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کی آبادی کو ضروری خوراک نہیں مل رہی، بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے، بچوں کا وزن کم ہے اور وہ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

بھارت ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے لیکن جنوبی ایشیا میں ’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ کے مطابق وہ بہت پیچھے ہے۔ بھارت 2019 میں 102ویں نمبر پر تھا جبکہ اس سال 8 درجے بہتری سے 94ویں نمبر پر آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جنوبی ایشیائی ممالک اور افریقہ میں صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع ممالک ہنگر انڈیکس میں سب سے پیچھے ہیں جو کہ ان ممالک میں خوراک کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بچوں کو کم خوراک میسر ہونے کے باعث ان کی اس عالمی فہرست میں درجہ بندی اتنی پیچھے ہے۔

بھارت کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں بچوں کی نشونما میں کمی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور وہاں 6ماہ سے 23 ماہ کی عمر والے بچوں میں غذا کی فراہمی کی مقدار بھی بہت کم ہے۔

’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ کی 2020 کی فہرست میں لیٹویا، بیلاروس، ایسٹونیا، چین، کویت اور ترکی کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خوراک کے معاملے صورتحال سب سے اچھی ہے۔

"گلوبل ہنگر انڈیکس” 2020 میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت میں 5سال سے کم عمر بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح 37.4 فیصد اور اموات کی شرح 17.3 فیصد ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح 3.7 فیصد ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس رپورٹ  پڑھنے کیلئے نیچے تصویر پر کلک کریں۔

 

بھوک افلاس کی فہرست میں بھارت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے آگے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >