بی جے پی کی حمایت، فیس بک کی بھارتی پالیسی سربراہ عہدے سے مستعفی

تفصیلات کے مطابق فیس بک پر نفرت آمیز مواد کے بارے میں دو ماہ پہلے شروع ہونے والے تنازع کے بعد بی جے پی کی حمایتی بھارت کی فیس بک کی پالیسی کی سربراہ انکھی داس نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا، انکھی داس نے اپنے عہدے سے استعفی امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں لگائے الزامات کے بعد دیا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں یہ الزام لگایا تھا کہ بھارت میں فیس بک پر حکمران جماعت بی جے پی کے ان حامیوں کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے جنہوں نے فیس بک کی نفرت انگیز مواد کے بارے میں پالیسی کی خلاف ورزی کی، بی جے پی کے رہنماؤں کے ساتھ نرمی برتنے کا فیصلہ انکھی داس کے انتہا پسند حکومت کی طرف جھکاؤ مو ظاہر کرتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے فیس بک حکام کا کہنا تھا کہ فیس بک کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے بیانیے کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

بھارت میں فیس بک کی سابق پالیسی سربراہ کا نام اس وقت خبروں کی زینت بنا جب وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ انکھی داس نے حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما کی جانب سے مسلم مخالف نفرت انگیز مواد پر مبنی پوسٹس کو تب ہٹانے کا فیصلہ کیا جب یہ معاملہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں اٹھایا گیا تھا۔

انکھی داس نے اپنے ملازمین کو ہدایت دے رکھی تھی کہ "اگر وہ مودی حکومت یا ارکان کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں پر کاروائی کریں گے تو اس سے انڈیا میں فیس بک کے کاروبار پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہوں گے، تاہم انکھی داس کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کمپنی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نفرت انگیز مواد پر مبنی پوسٹس کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >