فرانسیسی سفارتخانے نے شیریں مزاری کے بیان کو جھوٹ پر مبنی قراردیدیا

پاکستان میں موجود فرانس کے سفارت خانے نے وفاقی وزیر انسانی حقوق شریں مزاری کے بیان کو جھوٹ پر مبنی قراردیدیا

فرانسیسی سفارت خانے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیریں مزاری کی ٹویٹ کو قوٹ کر کے جواب دیا گیا کہ ‘جھوٹی خبر اور غلط الزامات۔’

شیریں مزاری نے ایک ویب سائٹ کی خبر شئیر کی تھی جس کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کے بچوں کے لیے ‘آئی ڈی نمبر’ یا شناختی نمبر جاری کرنے فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان کو سیکولر بنایا جا سکے۔

شیریں مزاری نے خبر شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ فرانسیسی صدر میکخواں مسلمانوں کے ساتھ وہ کر رہے ہیں جو جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا کہ ان کے بچوں کی شناخت کے لیے کپڑوں پر زرد ستارہ لگایا۔

واضح رہے کہ فرانس کے وزیر داخلہ گیرالڈ درمانن نے دو روز قبل کہا تھا کہ فرانس کے وہ مسلمان والدین جو یہ شکایت کریں گے کہ سکول میں اساتذہ ان کے بچوں کو ‘غیر حساس کارٹون’ دکھا رہے ہیں، فرانس چھوڑ کر چلے جائیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں پیغمبرِ اسلام کی توہین پر مبنی کارٹون دکھائے جانے پر مسلمانوں میں سخت غم و غصہ ہے اور کئی علاقوں میں شدت پسند حملے بھی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق فرانسیسی صدر عمانوایل میکرون نے مسلمان رہنماؤں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے فرانس کے مسلم رہنماؤں سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ ‘جمہوری اقدار’ کے چارٹر پر رضامندی اختیار کریں جو کہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی خبر کے مطابق سی ایف سی ایم نے ایک قومی کونسل برائے امام کے قیام پر اتفاق کیا جو فرانسیسی سرزمین پر رہنے والے تمام اماموں کو سرکاری طور پر منظوری پیش کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں واپس لیا جاسکتا ہے۔

فرانسیسی صدر کے چارٹر میں کہا گیا کہ اسلام ایک مذہب ہے نہ کہ ایک سیاسی تحریک اور مسلم گروہوں میں ’غیر ملکی مداخلت‘ پر پابندی ہوگی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >