آسٹریلیا نے مشہور عالم دین عبدالناصر بن بریکہ کی شہریت منسوخ کر دی

الجزائرین نژاد آسٹریلیوی عالم دین عبد الناصر بن بریکہ کی آسٹریلیو ی شہریت منسوخ کردی گئی ہے، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دہشت گردی کی ایک کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الجزائر سے تعلق رکھنے والے مذہبی اسکالر عبدالناصر بن بریکہ کو ایک فٹبال میچ کے دوران اسٹیڈیم میں بم نصب کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔

ان کے خلاف عدالت میں دہشت گرد گروہ کی سربراہی اور 2005 میں میلبورن کے ایک فٹبال میچ کے دوران اسٹیڈیم میں بم نصب کرنے جیسے مقدمات چلائے گئے۔

آسٹریلیو ی عدالت نے عبدالناصر بن بریکہ کو دہشت گرد گروہ کا حصہ ہونے، دیگر افراد کو دہشت گردی کی تربیت دینے، اور ممنوعہ مواد رکھنے جیسےجرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 15 برس قید کی سزا سنادی تھی۔

عدالتی حکم کے بعد آسٹریلیوی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کردی ہے، تاہم جب تک ان کی سزا مکمل نہیں ہوجاتی تب تک وہ نہ ملک چھوڑ سکیں گے اور نہ ہی وہ غیر ملکی تصور کیے جائیں گے، ایسا آسٹریلیوی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی شخص آسٹریلیا کی سرزمین پر موجود ہو اور اس کی شہریت منسوخ کردی جائے۔

یہ قانون آسٹریلیا میں حال ہی میں منظور کیا گیا ہے جس کے تحت اگر کسی شخص کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کی شہریت منسوخ کردی جائے گی، تاہم شہریت منسوخی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق بھی رکھا گیا ہے، مذہبی اسکالر عبدالناصر کے وکیل بھی 90 روز کے اندر شہریت منسوخی کے حکومتی فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔

    • جاہل کے بچے اسے عمر قید ہوگئی ہے اور وہ نیوزی لینڈ میں ہی جیل کاٹ رہا ہے وہ آسٹریلین تھا اس لئے عمر قید کے بعد اسے آسٹریلیا ہی بھیجا جاے گا جبکہ یہ امام الجیرین تھا اور مسجد کا امام بن کر آیا تھا لہذااسے الجیریا بھیجا جاے گا اگر یہ سزا کے دوران مر نہ گیا

  • آج کے دور میں بھی یہ لوگ دور جہالت کی نشانیاں ہیں، کھیل کے سٹیڈیم میں بم لگا دینا، چرچ میں فائرنگ کروا دینا، ٹورسٹس پر بم پھینک دینا یہی ان کے نزدیک اسلام کی برتری کیلئے کیا جاسکتا ہے، تعلیم، اخلاق، رواداری ، محبت سے اسلام کو کوی فائدہ نہیں؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >