بھارت:شادی کے ذریعے مذہب تبدیلی پر دس سال تک سزا کا قانون منظور

بھارت کی حکمران جماعت نے اتر پردیش کی ریاست میں ایک منفرد قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اگر کسی شخص نے شادی کے ذریعے کسی شہری کو مذہب تبدیل کرنے کیلئے مجبور کیا تو اسے 10 سال تک کی سزا سنائی جاسکے گی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی نے اترپردیش میں مسلمان لڑکوں سے ہندو لڑکیوں کی شادی اور اسلام قبول کرنے کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اگر کسی بھی شخص کو زبردستی کسی لڑکی سے شادی کرنے اور مذہب تبدیل کرنے میں ملوث پایا گیا تو اسے 10 سال تک کی قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔

یہ قانون سازی بھارت میں بین المذاہب شادیوں کی روک تھام کیلئے تشکیل دیا جائے گا جس کی مہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو انتہا پسند جماعت چلاتی رہی ہے، ایسی شادیوں کو جس میں ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرتی ہیں اور اسلام قبول کرتی ہیں بھارتی جنتا پارٹی ایسی شادیوں کو "جہاد محبت” قرار دیتے ہیں۔

بھارتی جنتا پارٹی کے انتہا پسند اور تنگ نظر سو چ رکھنے والے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو خواتین کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کیلئے ان سے محبت کرتے ہیں پھر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کرکے ان سے شادی کرلیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جس کی تصدیق کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی مگر حکومت نے اس بے بنیاد سوچ پر ایکشن لینے اور قانون سازی کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

مجوزہ قانون اتر پردیش کے گورنر کی منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر نافذ ہوجائے گا، اس قانون کے تحت دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جوڑے کو شادی کیلئے 2 ماہ قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو نوٹس دینا ہوگا اور آگاہ کرنا ہوگا کہ وہ بین المذاہب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے باقاعدہ اجازت ملنے کے بعد ہی یہ جوڑا شادی کرسکے گا۔

اتر پردیش کے وزیر سدھارتھ ناتھ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 10 سال تک کی قید کا یہ قانون جبری مذہب کی تبدیلی و شادیوں میں کمی اور خواتین کو انصاف دلانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >