ایرانی نیو کلیئر پروگرام میں شامل سائنسدان کے قتل میں اسرائیل ملوث ہے،جواد ظریف

 

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایک ایرانی سائنسدان جو ملٹری نیوکلیئر پروگرام کا حصہ تھے ان کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹرپر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ "آج دہشت گردوں نے ایران کے ایک اہم سائنسدان کو قتل کردیا ہے، یہ بزدلانہ اقدام جس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد ملے ہیں، جنگ کی جانب دھکیلنے کی ایک کوشش ہے”۔

ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے جسے اسرائیلی میڈیا مبینہ طور پر ایران کےسن 2000 میں ختم کیے گئے نیوکلیئر پروگرام کا سربراہ قرار دیتا ہے آج تہران کے قریب ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے ہیں، ان پر حملہ مسلح دہشت گردوں نے کیا ، فخری زادے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

اسرائیل نے فوری طور اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرنے سے منع کردیا ہے، یہ وہی سائنسدان ہیں جس سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ” مجھے یہ نام یاد ہے”۔واضح ہو کہ اسرائیل کو ایک دہائی قبل تک ایرانی سائنسدانوں کے سلسلہ وار قتل میں مشکوک سمجھا جاتا تھا۔

2018 میں دیئے گئے اپنے اس بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعتراف بھی کیا تھا کہ "ان کی خفیہ ایجنسی موساد کو ایران کے دارالحکومت تہران سےہٹا لیا گیا ہے جو وہاں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کیلئے موجود تھی، مجھے نام یاد ہے فخری زادے”۔

  • یہ تو ہمارے اسلامی مُمالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کا حال ہے۔
    اپنے ہائی پروفائل لوگوں کا دفاع ہم کر نہیں سکتے اور الزام دُشمن پر لگاتے ہیں ۔

    دُشمن سے خیر کی توقع کون بیوقوف کرتا ہے؟
    سوال یہ ہونا چاہیے کہ دُشمن کی چالوں سے نمٹنے لیے ہماری اپنی کارکردگی کیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >