ٹرمپ عہدہ اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر آمادہ، مگر شرائط کیا ہیں؟

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر کا عہدہ اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے ہیں مگر انہوں نے اسے انتخابات کے نتائج کوالیکٹورل کالج سے منظور کروانے سے مشروط کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر نومنتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کو باضابطہ طور پر الیکٹورل کالج سے منظور کروالیا جائے تو میں صدر کے دستبردار بھی ہوجاؤں گا اور وائٹ ہاؤس بھی چھوڑ دوں گا۔

ایک تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی یہ شر ط صحافیوں کے سامنے رکھی اور کہا کہ اگر ایکٹورل کالج سے جو بائیڈن کی فتح کی منظوری مل جائے تومیں اپنی شکست تسلیم کروں گا اور اس کے بعد میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے میں ایک لمحے کا وقت بھی نہیں لگاؤں گا ، مگر اگراس مطالبے کو نہیں مانا جاتا تو جو بائیڈن کے امریکی صدر کا حلف اٹھانے کی تقریب(جو20 جنوری کو منعقد ہونی ہے) سے پہلے بہت سے واقعات رونما ہوسکتے ہیں جس سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

واضح ہو کہ امریکی صدارتی انتخابات میں فتح یاب ہونے والے امیدوار کو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونےو الے” الیکٹرز” سے اپنی جیت کی توثیق کروانی ہوتی ہے، عموما یہ ایک کاغذی کارروائی ہوتی ہے کیونکہ امریکہ میں انتخابات کی شفافیت پر ماضی میں کبھی ایسے سوالات نہیں اٹھائے گئے اور نہ شکست سے دوچار ہونے والے صدر نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ہے جس نے امریکہ کو ایسی صورتحال سے دوچار کیا ہے،ا ور اب وہ جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے قبل کسی ان دیکھے معجزے کے منتظر ہیں یا وہ کوئی منصوبہ بندی کے تحت یہ ساری چالیں چل رہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی منتقلی کیلئے کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے اور دوسری جانب نو منتخب صدر جو بائیڈن نے اپنی کابینہ میں شامل ہونے والے اراکین کی فہرست بھی تیار کرلی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >