ایران کے ایٹمی سائنسدان کے قتل کیلئے دنیا کو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے:اسرائیلی عہدیدار

ویسے تو اسرائیل نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اسرائیلی عہدیدار نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل پر دنیا کو اسرائیل کا شکرگزار ہونا چاہئے۔

نیو یارک ٹائمز نے یہ بھی کہا کہ یہ اسرائیلی عہدیدار گزشتہ کئی برسوں سے ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی جاسوسی اور ریکی میں مصروف رہے ہیں۔ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کا موقف امریکا سے مختلف نہیں اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کیخلاف ہر ممکن اقدام کرے گا۔

دوسری طرف بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اور سابق سی آئی اے افسر بروس ریڈل نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اسرائیل دشمن کی سر زمین پر اہداف کے حصول میں غیر معمولی کامیابی اور صلاحیت دکھا رہا ہے۔

بروس ریڈل نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ایران کے پڑوسی ممالک آذربائیجان کے ساتھ قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھایا ہے اور وہ ان ممالک کو جاسوسی اور جاسوسوں کی بھرتی کیلئے بھی استعمال کر رہا ہے۔

یاد رہےکہ اس سے 8 سال قبل بھی ایرانی سائنسدان فخری زادہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر لگایا گیا تھا مگر 8 سال بعد اب دوبارہ اس واقعہ کا سامنے آنا عجیب بات ہے اور ویسے بھی اسرائیل نے ابھی تک ایرانی شہر آبسارد پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جس کی وجہ سے اسے براہ راست ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>