بھارتی سپریم کورٹ کا حکومت کو نئے زرعی قوانین تاحکم ثانی روکنے کا حکم

بھارتی سپریم کورٹ کا مودی سرکار کو دھچکا، سپریم کورٹ نے نئے زرعی قوانین پر علمدرآمد روکنے کا حکم دیدیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت کے نئے زرعی قوانین کو معطل کرنے کی دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو نئے زرعی کروانی نے تاحکم ثانی روکنے کا حکم دیدیا ہے، عدالت عظمیٰ نے متنازع قوانین پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے ماہرین پر مشتمل 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ عدالت کو کسانوں کے احتجاج کے معاملے پرحکومت کی کارکردگی سے مایوسی ہوئی ہے، بھارتی کسان اتنے دنوں سے نئے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت کی جانب سے سے کامیاب مذاکرات نہیں کیے جاسکے۔

چیف جسٹس شراد بوبدے کا کہنا تھا کہ ʼہمارے پاس کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار ہے اور کمیٹی ہمیں رپورٹ دے سکتی ہے۔انہوں نے ستمبر 2020 میں جاری ہونے والے قوانین پر غیر معینہ مدت کے لیے اسٹے آرڈر جاری کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ʼہم کسانوں کو تحفظ دیں گے۔

بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں وہ افراد ہی موجود ہیں جو حکومت کے حامی افراد ہی ہیں اور جب تک متنازع زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا جاتا وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں بھارتی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف بھارتی کسان مسلسل کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں جب کے احتجاج کے دوران اب تک کئی کسان ہلاک بھی ہو چکے ہیں لیکن کسان اپنے مطالبات سے ایک انچ میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بھارتی حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان کئی مذاکرات کے دور بھی ہو چکے ہیں لیکن دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ بعد ازاں کسان تنظیموں نے 25 جولائی کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

  • سپریم کورٹ کیوں ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے لوگوں کے احتجاج کو دیکھ رہی تھی؟ اور شائد یہ بھی لوگوں کے احتجاج ختم کرنے کے لیے ایک چال چلی ہو۔۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >