امریکی صدر کی حلف برداری کے دوران ہنگامہ آرائی کاخدشہ،فوج کو تیار رہنے کا حکم

امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق 20 جنوری کو منعقد ہونے والی نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری کے دوران بھی ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہے۔ جس کے لیے فوجی قیادت نے اہلکاروں اور سروس ممبران کو اس ممکنہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں دنیا بھر سے اہم شخصیات کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم اس تقریب کو کورونا وائرس کے خطرے کے سبب مختصر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی فوج کو تحریری طور پر لکھی گئی درخواست کے مطابق ٹرمپ کے حامی 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر پیش آنے والی ہنگامہ آرائی سے ملتا جلتا ردعمل دے سکتے ہیں اس لیے فوج کو تیار رہنا ہوگا۔

فوج کو ملنے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ فوج آئینی اور جمہوری عمل میں مداخلت تو نہیں کر سکتی البتہ کیپٹل ہل پر پیش آنے والے واقعہ کے ممکنہ خدشات موجود ہیں۔ آزادی اظہار رائے کا مطلب تشدد کرنا نہیں ہوتا اور جو کیپٹل ہل پر ہوا وہ غیر جمہوری اور مجرمانہ فعل تھا۔

فوج سے اس سلسلے میں تعاون کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ قومی اقدار، نظریات اور ملک کے آئین کی حمایت اور دفاع کے لیے امریکی فوج ہمہ وقت تیار رہے۔

امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ 6 جنوری کو امریکا میں پیش آنے والے واقعہ میں فوجی ملوث ہو سکتے ہیں اس لیے سینیٹر ٹیمی ورتھ نے اپنے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پتا لگائیں کہ کیا اس واقعہ میں کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی افسر تو ملوث نہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>