مودی کی داڑھی اور بال نہ کاٹنے کے پیچھے کیا راز ہے؟

مودی کی داڑھی اور بال نہ کاٹنے کے پیچھے کیا راز ہے؟

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی طویل عرصے سے اپنے بال اور داڑھی نہیں کٹوا رہے ہیں، جس پر ایک تقریب کے دوران مودی کے قریبی ساتھی اوربابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے معاملے کے ٹرسٹ بورڈ میں شامل سوامی وشوا پرسانا سے صحافیوں نے سوال کیا۔

مودی کے قریبی دوست سوامی وشوا پرسانا نے انکشاف کیا کہ مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہونے تک داڑھی اور بال نہ کاٹنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ سنککلپا کہلاتا ہے،پیجوارا سییر میں وزیر اعظم مودی کی بڑھتی ہوئی داڑھی ، بالوں کے بارے میں ایک نظریہ ہے۔

رواں سال بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی داڑھی اور بال کافی بڑے ہوگئے ہیں۔ اس کے بارے میں بھارتی میڈیا بھی باتیں چل رہی ہیں، مودی کے ایک قریبی ساتھی نے جب راز بتایا تو مودی پر تنقید کی جانے لگی،عوام نے کہا مودی کے ڈرامے انیس سو پچھتر سے چل رہے ہیں،اس وقت بھی داڑھی بڑھی کرکے گورودوارا کا ہیڈ بن گیا، جبکہ مودی کے کارٹونز میڈیا کی رونق بنے ہوئے ہیں کہا جارہا ہے مودی سکھ کسانوں کو رام کرنا چاہتے اس لئے داڑھی بڑھارہے ہیں۔

گزشتہ سال مودی نے شمالی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں متنازع رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ،بھومی پوجا کے بعد مندر کے سب سے اندرونی حصے میں ایک چاندی کی علامتی اینٹ رکھی جو کہ آئندہ بننے والے مندر کا سب سے مقدس حصہ ہو گا۔

ایودھیا کی بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے دور میں ایک مقامی جرنیل نے ان کے نام پر تعمیر کروائی تھی،ہندوؤں کا ‏عقیدہ ہے کہ ان کے بھگوان رام چندر جی اسی مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ ان کے مطابق بابری مسجد رام مندر کو توڑ کر اسی کی جگہ بنائی گئی تھی ۔ ایودھیا میں 19ویں صدی میں اس مقام پر قبضے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں میں فساد ہوا تھا اور یہ معاملہ انگریزوں کے دور حکمرانی میں عدالت میں پہنچا تھا جہاں عدالت نے فیصلہ مسلمانوں کے حق میں دیا تھا۔

بابری مسجد معاملہ اس وقت وقت حل ہوا جب دو سال قبل نومبر میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک طویل مقدمے کے بعد بابری مسجد کی متنازع زمین کا فیصلہ رام مندر کی تعمیر کے حامیوں کے حق میں سنایا
عدالت کا کہنا تھا کہ آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس مقام پر بابری مسجد کے نیچے ایک ایسی عمارت کے شواہد ملے ہیں جو کہ اسلام سے منسلک نہیں تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ شواہد کی نظر میں متنازع زمین ہندوؤں کو مندر کی تعمیر کے لیے دی جاتی ہے اور مسلمانوں کو کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے جگہ فراہم کی جائے،عدالت نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ ایک ٹرسٹ بنائیں جو کہ مندر کی تعمیر کی ذمہ داری لے تاہم عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ بابری مسجد کو مسمار کرنا قانون کی بالادستی کے خلاف تھا،کوٹ کے حکم پر رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے جو مندر کی تعمیر اور اس سے متعلق دیگر پہلوؤں پر نظر رکھے گا۔

پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کی جانب بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔

  • مودی شروع سے ہی ہندؤں کو پاگل بناتا آرہاہے کبھی مسلمانوں پر ظلم کر کہ کبھی سکھوں پر حملے کرا کہ اور اب لمبے بال کر کہ لوگوں کو پاگل بنائے گا۔
    بابری مسجد کیس بلکل مودی سرکار کہ حق پہ آیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >