ڈونلڈ ٹرمپ کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بحال

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیس بک اور انسٹاگرام پر واپسی ہوگئی، دونوں اکاؤنٹس بحال کردیئے گئے ہیں، گزشتہ روز سوشل نیٹ ورکس مینجمنٹ فیس بک اور انسٹاگرام نے امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی اکاؤنٹس کو فعال کیا ہے،دونوں صفحات پر آخری اندراجات 6 جنوری سے تھیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ کیا ٹرمپ نئی پوسٹس شائع کرسکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ، کمپنی نے نو منتخب صدر جوزف بائیڈن کی حلف برداری کی 20 جنوری کو منعقدہ تقریب تک فیس بک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، 6 جنوری کو ، ٹرمپ کے حامیوں کے واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے اور قانون سازوں کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کی سرکاری طور پر تصدیق سے روکنے کے لئے اور ڈیموکریٹ کے جو بائیڈن کو نیا صدر بننے سے روکنے کے عمل کے بعد اکاؤنٹس بند کئے گئے تھے۔

امریکی صدر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تاحال بند ہے،سماجی رابطوں کے مشہور پلیٹ فارم فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کے بعد یوٹیوب نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل معطل کر دیا تھا،یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل ممکنہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر معطل کیا اور وڈیوز ہٹا دیں تھیں۔یوٹیوب کے مطابق ٹرمپ چینل پر موجود مواد سے تشدد پھیلنے کا خدشہ تھا، ٹرمپ چینل پر کم از کم 7 دن تک نیا مواد اپلوڈ نہیں ہو سکے گا

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ 20 جنوری کو نومنتخب صدر جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ میں وہ چوتھے صدر ہوں گے جو نو منتخب صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے۔آخری مرتبہ 1869 میں ہوا تھا جب اینڈریو جانسن نے نومنتخب صدر یولیسز گرانٹ کی تقریب حلف برداری میں جانے سے انکار کیا تھا۔

امریکا میں کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والے اور سیکیورٹی اداروں نے حملے میں ملوث 300 افراد کی شناخت کرلی،قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث 300 افراد کی شناخت کرلی گئی، کانگریس پر حملے کی ایک لاکھ چالیس ہزار ویڈیوز اور تصاویر جمع ہوچکی ہیں،رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی اور حملے سمیت دیگر جرائم کے تحت 98 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

ایف بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل حملے مین ملوث 100 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں،فیڈرل بیورو آف انسویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ گرفتار میں فوج سمیت دیگر انتظامی محکموں کے سابق اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ حملے کے بعد امریکی صدر کیخلاف مواخذے کی قرار داد بھی منظور ہوچکی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >