مدینہ منورہ صحت مند شہر قرار،ڈبلیوایچ او کا سرٹیفکیٹ جاری

مدینہ منورہ صحت مند شہر قرار،ڈبلیوایچ او کا سرٹیفکیٹ جاری

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ویژن دوہزار تیس ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مدینے کی ٹھنڈی اور صاف ہوائیں، خوبصورت ماحول کا عالمی ادارہ بھی معترف ہوگیا، عالمی ادارہ صحت نے مدینہ کو صحت مند شہر کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔

وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مدینہ کو صحت مند شہر کا سرٹیفیکیٹ گورنر مدینہ شہزادہ فیصل بن سلمان کو پیش کیا،الشرق الاوسط کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے صحت مند شہر کے لیے جتنے عالمی معیار مقرر کیے تھے، مدینہ نے وہ سب مکمل کرلیے ہیں۔ مدینہ کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے یہ سرٹیفیکیٹ جاری کیا ہے۔

مدینہ کی انتظامیہ نے طیبہ یونیورسٹی اور سرکاری اداروں کی اسٹریٹجیک شرکت سے متعدد صحت کے منصوبے تیار کئے جنہیں کامیابی کیساتھ عالمی قوانین کے مطابق مکمل کیا، منصوبے کی تکمیل کیلئے شہر میں اسپیشلسٹ فلاحی انجمنیں قائم کی گئیں،ای صدقہ پروجیکٹ قابل ذکر رہا، جو اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے ماتحت پروگرام کے رابطہ کار احمد حماد نے اسےبڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی وژن 2030 کا بہترین ثمر ہے، عالمی تنظیم نے سفارش پیش کی ہے کہ مدینہ مقامی اور بین الاقوامی تربیتی مرکز ہوگا جبکہ عالمی ادارہ صحت نے مدینہ منورہ کو مستقبل میں مقامی اور بین الاقوامی تربیتی مرکز کے طور پر ابھرنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب مدینہ منورہ میونسپلٹی نے شہر میں رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مزید 25 سیکٹرز کی منظوری دی ہے، یہ 3 لاکھ 59 ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہونگے، نئے سیکٹر میں 5200 مکانات تعمیر ہوں گے، دکانیں اور 144 صنعتی پلاٹس ہوں گے جبکہ 33 پارکس، 27 اسکول، چالیس مساجد اور 8 سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

  • ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا مدینے کی
    مہکی مہکی فضا مدینے کی
    آرزو ہے خدا مدینے کی
    مجھ کو گلیاں دکھا مدینے کی
    دن ہے کیسا منور و روشن
    رات رونق فزا مدینے کی
    چھاؤں تو ہر جگہ کی ٹھنڈی ہے
    دھوپ بھی دلربا مدینے کی
    کیف آور ہے موسم سرما
    گرمیاں دل کشا مدینے کی
    پھول تو پھول خار بھی دل کش
    پتیاں دلربا مدینے کی
    ہے چمن تو حسین کانٹوں کی
    جھاڑیاں خوشنما مدینے کی
    ہے پہاڑوں پہ نور کی چادر
    وادیاں دل کشا مدینے کی
    سبز گنبد کا حسن کیا کہنا
    جالیاں دلربا مدینے کی
    کیف و مستی بھرا سماں ہے وہاں
    کیف آور فضا مدینے کی
    ہر گھڑی رحمتیں برستی ہیں
    ہے ہوا خوشنما مدینے کی
    ظلمت شب ڈرائے گی کیونکر
    ہر طرف ہے ضیاء مدینے کی
    غمزدہ آنکھ کھول کر دیکھو
    چھا گئی ہے گھٹا مدینے کی
    کیوں ہو مایوس اے مریضو !
    تم لے لو خاک شفا مدینے کی
    کوئی ناکام لوٹتا ہی نہیں
    راہ لے تو گدا مدینے کی
    میرے مرجھائے دل کو جھونکا دے
    آ کے باد صبا مدینے کی
    کوئی پیرس کے خواب دیکھا کرے
    یہاں تو رٹ ہے سدا مدینے کی
    میری قسمت میں کاتب تقدیر !
    لکھ دے لکھ دے قضا مدینے کی
    حج کے دن پھر قریب آنے لگے
    دے دو رخصت شہا مدینے کی
    بھائیو ! طالب بقیع ہوں میں
    مجھ کو دے دو دعا مدینے کی
    سلطنت کی ہوس نہیں آقا
    ہو گدائی عطا مدینے کی
    کاش ! ہر آن یاد تڑپائے !
    ہر نفس ہو صدا مدینے کی
    رات دن یہ تمہارے دیوانے
    مانگتے ہیں دعا مدینے کی
    رو رہے ہیں غریب کہ
    ان کو یاد آئی شہا ! مدینے کی
    اپنے جوتے اتار لینا تم
    جب گلی دیکھنا مدینے کی
    چوم کے پھول دھول کو بھی تم
    جھوم کے چومنا مدینے کی
    خاک در کا لگا کے سرمہ
    تم راحتیں لوٹنا مدینے کی
    ایک مدت ہوئی جدائی کو
    ہو اجازت عطا مدینے کی
    خوب جھومیں گے لوٹ جائیں گے
    دیکھتے ہی فضا مدینے کی
    مجھ کو قدموں میں موت دے کے پھر
    دے دو تھوڑی سی جا مدینے کی
    جا کے عطار پھر مدینے میں
    رحمتیں لوٹنا مدینے کی
    آہ ! عطار بن گیا انساں
    خاک کیوں نہ بنا مدینے کی
    صلی الله علیه وآله وسلم


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >