کینیڈین گورنر جنرل نے ملازمین کو ہراساں کرنے پر استعفیٰ دے دیا

کینیڈا میں ملکہ برطانیہ کی نمائندہ اور گورنر جنرل جولی پائیٹ نے ملازمین سے بدتمیزی، ناروا سلوک اور ہراساں کرنے اور بے جا دباؤ ڈالنے کے الزامات کا اعتراف کرلیا،الزامات درست ثابت ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

مستعفی گورنر جنرل نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ نئے گورنر جنرل کے تقرر کا وقت آگیا، کیوں کہ کینیڈا کے عوام اس غیر یقینی دور میں استحکام کے مستحق ہیں۔ میں عملے کو پریشانی کا سامنا کرنے پر معذرت کرتی ہوں۔

57 سالہ گورنر جنرل جولی پائیٹ  تفتیشی رپورٹ میں ملازمین پر بے جا دباؤ ڈالنے، ہراساں کرنے اور دھونس دھمکی سے کام کرانے کے شواہد سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئیں۔

رپورٹ کے مطابق گورنر جنرل کی بدتمیزی اور نامناسب برتاؤ کی وجہ سے ماتحت ملازمین رونے پر مجبور ہوگئے تھے جب کہ ماتحت ملازمین جولی پائیٹ کی زہر افشانی کے باعث ہر وقت ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا رہتے تھے۔

جولی پائیٹ اس سے قبل کینیڈا کی خلابازی کی سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں جب کہ وہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں نمائندگی کرنے والی کینیڈا کی پہلی خاتون بھی تھیں اور اسی وجہ سے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جولی پائیٹ کو 2017 میں 5 برس کے لیے گورنر جنرل بنانے کی تجویز دی تھی۔

جولی پائیٹ کے مستعفی ہونے پر وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے نہ صرف روایتی الوداعی شکریہ ادا نہیں کیا بلکہ انہوں نے استعفے کو گورنر جنرل کے دفتر میں ہونے والی ہراسانی کا ازالہ قرار دیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>