بمبئی ہائیکورٹ کی جنسی ہراسانی کی عجیب وغریب تعریف ، بھارتی اداکار برس پڑے

بمبئی ہائیکورٹ نے ایک کیس کے دوران جنسی ہراسانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کیس میں کسی شخص کی جانب سے جلد سے جلد نہ ملائی گئی ہو ایسے کیسز کو جنسی ہراسانی کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا ۔

بھاری خبررساں ادارے ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بمبئی ہائیکورٹ کی اس تعریف نے بھارت میں ایک نئی بحث کو جنم دیدیا ہے جس میں عام عوام کے بعد اب شوبز کے ستاروں نے بھی حصہ لینا شروع کردیا ہے۔

معاملہ تھا ایک ایسے کیس کا جس میں ایک 39 سالہ شخص کی جانب سے سیشن کورٹ سے ملنے والی 3 سالہ سزا کے خلاف بمبئی ہائیکورٹ میں اپیل کی گئی، سیشن کورٹ نے اس شخص کو 12 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ زبردستی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جرم میں 3 سال کی قید کی سزا سنائی تھی۔

بمبئی ہائیکورٹ کے اس شخص کی تین سال کی سزا کو معطل کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ایسا کیس نہیں ہے جسے بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے قانون پوکسو کے تحت چلایا جائے، جنسی ہراسانی کا کیس تب بنے گا جب کسی شخص نے غلط ارادے سے کسی کی جلد سے اپنی جلد ملائی ہو یا کسی کو لباس کے اندر چھوا ہوکسی بچی کی چھاتی کو کپڑوں کے اوپر سے چھونا جنسی ہراسانی نہیں ہے۔

اس کیس میں ایسی کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی ہے لہذا ملزم کو تعزیرات ہند کی دفعہ254 کے تحت ایک سال قید کی سزا دی جائے گی ۔

اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو کا کہنا تھا کہ” میں نے بہت دیر کوشش کی مگر مجھے الفاظ نہیں مل پائے جس سے میں یہ بیان کرسکوں کہ یہ فیصلہ پڑھ کر مجھے کیسا لگ رہا ہے”۔

مشہور اداکار ریتیش دیشمکھ کا کہنا تھا کہ” مجھے کوئی کہہ دے کہ یہ ایک جھوٹی خبر ہے”۔

اداکار و میزبان رگھورام نے طنزیہ اندا ز میں کہا کہ” اس فیصلے والے دن کو ہر سال عورتوں کو چھیڑنے کے دن کے طور پر منایا جانا چاہیے”۔

بھارتی شوبز رپورٹر جان پال نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "کیا کوئی یہ مذاق کررہا ہے”۔

اس فیصلے سے متعلق پاکستانی قانون دان، عورتوں کی حقوق کیلئے آواز اٹھانے والی کارکن اور تجزیہ کار ریما عمر نے بھی اپنی رائے دی اور کہا کہ” سزا کے خلاف اپیل کرنے والے نے بچی کا ہاتھ پکڑا، اسے لالچ دی اور اپنے گھر لے گیا”۔
انہوں نے مزید کہا کہ” اس شخص نے بچی کے کپڑے اتارنے چاہے، اس کی چھاتی کو مسلنا چاہا، بچی نے شور مچایا، اس شخص نے اپنے ہاتھ سے اس کا منہ بند کرنے کی کوشش کی اور عدالت کہتی ہے کہ جلد سے جلد نہیں ملی اس لیے یہ جنسی ہراسانی کا کیس نہیں بنتا، یہ ناقابل یقین ہے”۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس یہ کیس سامنے آیا تھا جس میں ملزم پر الزام لگایا گیا کہ اس نے 12 سالہ بچی کو لالچ دی اور اپنے گھر لے جاکر جنسی طور پر ہراساں کیا، بچی کے چیخنے چلانے پر اس نے اسے کمرے میں بند کردیا اور چلا گیا، بچی کی والدہ جو اپنی بچی کو ڈھونڈ رہی تھی اس نے ملزم کو دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھا۔

بچی کی والدہ نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے بھی اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ جب اس نے ملزم کو دروازہ بند کرتے دیکھا تو اس کے گھر تک گئی اور بچی برآمد کرکے فوراََ پولیس کے پاس جاکر مقدمہ درج کروایا۔ جس کے بعد فروری 2020 میں ناگپور کی ٹرائل کورٹ نے اس کیس سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو 3 سال قید کی سزا سنائی تھی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >