بھارت: اغوا اور زیادتی کا ڈرامہ بے نقاب ہونے پر طالبہ نے اپنی جان لے لی

اغوا اور زیادتی کے جھوٹے دعوے نے طالبہ کی جان لے لی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر حیدرآباد میں دو ہفتے قبل 19 سالہ ایک لڑکی نے گھر دیر سے آنے پر ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے اغوا اور جنسی زیادتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تھا، جس نے 19 سالہ طالبہ کی جان لے لی۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ واقعہ 10 فروری کو پیش آیا تھا، جب 19 سالہ لڑکی اپنے ایک دوست کے ساتھ رات دیر تک اس کے ساتھ رہی اور وہاں سے گھر لوٹنے پر ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے اس نے اغوا اور جنسی زیادتی کی جھوٹی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ اسے رکشے والے نے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

لڑکی کی ماں نے یہ سن کر فوری طور پر پولیس کو بلا لیا اور نہ معلوم رکشہ ڈرائیور کے خلاف رپورٹ درج کروا دی، لڑکی کی ماں کی درخواست پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے لڑکی کو ہسپتال میں داخل کروا دیا اور کئی افراد کو بھی حراست میں لیا جب کہ لڑکی نے میڈیا سے بھی جھوٹ بولا۔

بعد ازاں جب پولیس نے اس کیس کی سائنٹیفک تفتیش کی تو لڑکی کا جھوٹ کھل کر سامنے آگیا اور لڑکی نے اپنے بیان میں اعتراف کر لیا کہ اسے کسی رکشہ ڈرائیور نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے دوست کے گھر رات دیر تک روکی کی اور وہاں سے واپسی پر ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے اغوا اور زیادتی کی کہانی بنائی تھی۔

بعد ازاں لڑکی واقعے کے بعد اپنی دادی کے گھر رہی تھی، جہاں اس نے منگل کی رات کو اپنی دادی کی شوگر کی گولیاں بڑی مقدار میں نگل لیں، جس پر اس کی طبیعت تشویشناک ہوگئی جس پر اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ لڑکی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جاں بحق ہو گئی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>