جمال خاشقجی قتل کے متعلق سی آئی اے کی تہلکہ خیز رپورٹ

ترکی میں قتل ہونے والے سعودی عرب سے تعقلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ سے منسلک تھے۔ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے شدید ناقد تھے۔ انہیں سعودی عرب میں گرفتاری کا خدشہ تھا اور اس خدشے کی وجہ سے وہ 2017 میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔

انہوں نے دوسری شادی کے لیے سعودی سفارتخانے سے دستاویز حاصل کرنا تھی۔ جسے حاصل کرنے کیلئے وہ 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں موجود سعودی سفارتخانے گئے اور واپس نہ آئے۔

ترک حکام نے الزام لگایا کہ جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے، بعد میں سعودی حکومت نے بھی انہیں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔ سعودی حکومت کے مطابق جمال خاشقجی کو انجیکشن لگایا گیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

امریکی انٹیلی جنس نے جمال خاشقجی کے قتل کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ تیار کی مگرسابق صدر ٹرمپ نےسعودی عرب سے تعلقات کی بنیاد پر اس رپورٹ کو منظرعام پر نہ آنے دیا۔

صدر جوبائیڈن کی حکومت سعودی عرب کے متعلق سخت رویہ رکھتی ہے۔ جمال خاشقجی کے قتل کی رپورٹ کو بھی
منظرعام پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق رپورٹ میں شہزادہ محمد بن سلمان کو ممکنہ طور پر قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ رپورٹ کی بنیاد وہ فون کالز ہیں جو شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان نے قتل کے بعد کی تھیں۔

شہزادہ خالد نے اپنے بھائی کی ہدایت پر جمال خاشقجی کو فون پر یقین دہانی کرائی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ بلا خوف وخطر استنبول کے سعودی سفارت خانے چلے جائیں۔

    • Today u reacted like PMLN supporters that first punish all criminals of the world and then u can punish Shareef family.
      Are u saying because USA attacked Iraq on the basis of lies so Saudi ruler has right to kill anyone the way they wanted?

      • I dont know atensari that much that I would support him but what I can conclude. he meant, USA killed a whole nation, but they want to fight the breaking news.
        Kashogjis murderers has to be put to light, no question about that, but look who is talking, usa?


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >