گورنر پنجاب چودھری سرور کے بیٹے انس سرور اسکاٹش لیبر پارٹی کے قائد منتخب ہوگئے

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے بیٹے انس سرور کواسکاٹش لیبر پارٹی نے مئی میں پارلیمنٹ کے انتخابات سے قبل اپنا نیا قائد منتخب کر لیا۔

گلاسگو سے تعلق رکھنے والے اسکاٹش پارلیمنٹ کے رکن انس سرور نے اس مقابلے میں شامل واحد امیدوار مونیکا لینن کو شکست دی ہے۔

انس سرور اسکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات 6 مئی سے قبل پارٹی کا چارج سنبھالیں گے۔ وہ برطانیہ میں کسی بڑی سیاسی جماعت کے پہلے ایسے رہنما ہیں جو سفید فام نہیں۔ انہوں نے 57.6 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ لینن کو 42.4 فیصد ووٹ ملے۔

اسکاٹش پارلیمنٹ نے گلاسگو سے رکن انس سرور کو رچرڈ لیونارڈ کے بعد اپنا قائد منتخب کیا جو جنوری میں مستعفیٰ ہوگئے تھے۔

اسکاٹش لیبر پارٹی کے رہنما منتخب ہونے کے بعد کی گئی تقریر میں انس سرور نے کہا میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں سے براہ راست یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے اعتماد کو جیتنے کے لیے لیبر پارٹی کو بہت زیادہ کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ناانصافی، عدم مساوات اور تقسیم، مجھے افسوس ہے کہ حالات زیادہ بہتر نہیں ہوئے اور میں ان کو تبدیل کرنے کے لیے دن رات کام کروں گا، تاکہ ہم اس ملک کی تعمیر کرسکیں جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔

انس سرور 16 سال کی عمر میں اسکاٹش لیبر پارٹی کے رکن بن گئے تھے۔ گلاسگو یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد رکن اسمبلی بننے سے قبل پانچ سال تک پیسلے میں بطورڈینٹسٹ کام کیا۔

37 سالہ انس 2010 سے 2015 تک گلاسگو کے مرکزی رکن پارلیمنٹ تھے اور وہ نیو لیبر کے گورڈن براؤن کیمپ کا حصہ تھے۔ انہوں نے یونین کی حامی مہم میں 2014 کے آزادی ریفرنڈم تک سرگرم کردار ادا کیا، ’نو ایکٹیوسٹس‘ کے ساتھ بس میں اسکاٹ لینڈ کا دورہ بھی کیا۔

2015 کے عام انتخابات میں ایس این پی کی ایلیسن تھیلس کے گلاسگو سینٹرل سیٹ جیتنے کے بعد، انس سرور نے ہولیروڈ کی طرف توجہ دی اور 2016 میں گلاسگو کے لسٹ ایم ایس پی منتخب ہوئے,2017 میں کیزیہ ڈگڈیل کے اقتدار چھوڑنے کے بعد لیبر پارٹی کو لیڈر شپ کے لیے انتخاب کروانا پڑے اور انس سرور کو رچرڈ لیونارڈ کے خلاف کھڑا کیا گیا۔

انس سرور کا ایک ایم ایس پی کے طور پر سب سے زیادہ اعلیٰ کردار اسکاٹش لیبر پارٹی کے صحت کے ترجمان کی حیثیت سے تھا۔ انھوں نے گلاسگو کے ملکہ الزبتھ یونیورسٹی اسپتال میں حفاظتی امور کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ منتقل ہونے والے ان کے والد چوہدری محمد سرور کو ہاوس آف کامنز کی تاریخ میں پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

چوہدری محمد سرور برطانیہ میں پہلے مسلم رکن پارلیمنٹ تھے اور 1997 اور 2010 کے درمیان گلاسگو سینٹرل لیبر پر فائز رہے۔ان کے بیٹے انس نے ان کی جگہ لیتے ہوئے اسی نشست پر کامیابی حاصل کی۔

چوہدری محمد سرور مسلم لیگ (ن) اور بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل 2013 میں اپنی برطانوی شہریت سے دستبردار ہو گئے تھے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>