بھارت:خود کشی کرنے والی عائشہ کے وکیل کے دلائل سے نئی بحث،عائشہ کس اذیت کا شکار تھی؟

بھارت میں خود کشی کرنے والی مسلم خاتون عائشہ کے وکیل نے ایسے دلائل دیئے جس سے نئی بحث کا آغاز ہو گیا

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کچھ روز قبل بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں 23 سالہ مسلم خاتون عائشہ نے خود کشی کی جس کی وجہ جہیز کا مطالبہ اور سسرالیوں کا تشدد بتائی گئی، تاہم اب عائشہ کے وکیل نے عدالت میں ایسے دلائل دیئے جس سے کمرہ عدالت کا ماحول بدل گیا۔

متوفی عائشہ کے وکیل ظفر پٹھان نے کہا کہ میری مؤکلہ نے خودکشی تو اب کی مگر وہ شادی کے کچھ ہی دیر بعد اذیت سے دوچار ہو گئی تھی۔ وکیل نے کہا کہ عائشہ کے شوہر عارف خان کے راجھستان کی لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور وہ اپنی بیوی کے سامنے اس سے ویڈیو کال پر باتیں کرتا تھا۔

وکیل نے عائشہ کے شوہر پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی محبوبہ پر پیسے خرچ کرتا تھا اور اس مقصد کے لیے اپنے سسرال سے رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔ عائشہ کے غریب والدین نے اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لیے ایک عرصے تک پیسے دیئے مگر اب عارف کے گھر والوں نے بھی عائشہ پر تشدد کرنا شروع کیا اور ساتھ میں مزید جہیز کا مطالبہ بھی کر دیا۔

وکیل ظفر پٹھان نے کہا کہ عائشہ ہر لمحہ ایک نئی پریشانی سے گزرتی رہی لیکن خاموش رہی، بیوی کے سامنے ہی اپنی دوست سے بات چیت کرنے والے شوہر عارف نے اپنی کئی حرکتوں سے اپنے کردار کا خلاصہ کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ حاملہ تھی اور اسی ڈپریشن کی وجہ سے اسکا حمل بھی ضائع ہو گیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >