بھارت میں انتہا پسندوں کا راج،ممبئی میں کراچی بیکری بند 

بھارت میں انتہا پسندی عروج پر ہے،ممبئی کی سب سے قدیم اور مشہور ترین ’کراچی بیکری‘ بالآخر بند ہوگئی، بیکری اپنے نام کی وجہ سے ہندو قوم پرست جماعتوں کے نشانے پر تھی۔

مہاراشٹر میں حکمراں شیو سینا کے کچھ رہنماؤں نے بھی کراچی بیکری کے مالکان کو دھمکی دی تھی کہ یا تو وہ دکان بند کر دیں یا پھراس کا نام تبدیل کردیں،متعدد صارفین نے کراچی بیکری کے بند ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے رہنما حاجی سیف شیخ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے ان کی جماعت کی جانب سے کراچی کے نام پر اعتراض کے بعد کراچی بیکری بلاآخر بند ہوگئی ہے۔ اس کا سہرا ہماری جماعت کو جاتا ہے۔

ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور حملے کے بعد ممبئی کی مشہور کراچی بیکری بند کی گئی ہے،مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکنوں نے ایک ماہ قبل کراچی بیکری پر حملہ کیا تھا اور مالک کو بیکری بند نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی اورانتہا پسند ہندو جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما نے کئی دہائیوں سے قائم کراچی بیکری کے مالک کو اپنی دکان کا نام فوری طور پر تبدیل کرنے کی دھمکی دی تھی،بھارت میں جنونی ہندوؤں کی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا  اور شیو سینا کو لفظ کراچی سے نفرت ہے۔

 ممبئی میں کراچی بیکری کے مالک ایک سندی ہندو ہیں جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد کراچی سے بھارت ہجرت کی تھی،کراچی بیکری کے مالک نے کہا ہے کہ پہلے کورونا وبا کے سبب کاروبار میں نقصان ہوا اور اب انتہا پنسدوں کی دھمکیوں کے بعد کسٹمرز نے آنا کم کردیا تھا۔

تقسیم ہند کے بعد 1953 سے قائم ممبئی کی مشہور کراچی بیکری کے مالک کا کہنا خوف کی وجہ سے کاروبار کرنا ممکن نہیں رہا،اس لئے بیکری بند کرنا پڑ رہی ہے، صارفین کی جانب سے بیکری بند ہونے پر شدید تنقید کی جارہی ہے،صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ممبئی شہر کا نقصان ہے،کراچی بیکری کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بیکری ممبئی میں واحد اور مشہور ترین بیکری تھی۔

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >