حوثی باغیوں کے حملے کے بعد خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایشیا میں تیل کی تجارت میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سےبھی بڑھ گئی ہے۔ جوکہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اس سطح بڑی تبدیلی ہے۔ یعنی کورونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اس سطح کا اضافہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں جب سعودی عرب نے کہا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے آرامکو تیل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے سے متعلق حوثی باغیوں کے ترجمان نے ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔

اس واقع کے بعد سعودی برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.65 فیصد اضافہ ہوا اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز اس کی قیمت 71.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.56 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی قیمت 67.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت توانائی نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے جو حملہ کیا ہے اس کے نتیجے میں آرامکو کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے سے متعلق کہا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف مملکت میں امن کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ اس سے دنیا کو تیل کی فراہمی، معشیت کا استحکام اور سلامتی جیسے اہم عوامل بھی متاثر ہوتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>