صوفہ گیٹ: ترک صدر سے ملاقات کر دوران یورپی کمیشن کی سربراہ کو کرسی نہ ملی

6 اپریل کو یورپی یونین کے 2 رکنی وفد نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی تو اس دوران عجیب صورتحال پیش آئی کیونکہ ملاقات کے دوران ترک صدر کے ساتھ ایک رکن کے لیے نشست موجود تھی جبکہ دوسرے کے لیے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لیے وفد کے اس رکن کو کچھ دیر کیلئے کھڑا رہنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کو نشست فراہم کی گئی لیکن یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وون ڈر لیئن کو نشست کے بغیر کھڑا رہنا پڑا۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا پر "صوفہ گیٹ سکینڈل” کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس واقعہ سے متعلق صنفی امتیاز اور یورپی یونین کے اداروں میں سیاسی گروہ بندی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ معاملے پر یورپی یونین کے قانون سازوں نے ملاقات کے دوران کمیشن کی خاتون سربراہ ارسلا وون ڈر لیئن کے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز رویے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس واقعہ سے متعلق کئی سفارتکاروں نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ذمہ داری ترکی پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کا ذمہ دار یورپی یونین ہے۔ فرانسیسی سفارتکار جیرارڈ اراڈ جو امریکہ،اسرائیل اور اقوام متحدہ میں سفارتکاری کر چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تمام تر ذمہ داری یورپی یونین پر عائد ہوتی ہے نہ کہ ترکی پر۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >