بھارتی سپریم کورٹ نے قرآن مجید سے آیات نکالنے کی درخواست مستردکردی

بھارتی سپریم کورٹ نے قرآن مجید سے 26 آیات کو نکالنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مجید سے 26 آیات کو ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔

انہوں نے اپنی درخواست مں موقف اختیار کیا کہ ان آیات میں جہاد کا ذکر ہے، جہاد سے متعلق قرآن کے اس بیان سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے اور یہ سب بھارت کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے لہذا ان آیات کو قرآن مجید میں سے ہٹادیا جائے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے اس درخواست پر سماعت کی اور اس درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، اور ساتھ ہی فیصلے میں وسیم رضوی پر50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کردیا۔

دوران سماعت سپریم کورٹ کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر سنجیدہ درخواست ہے، کیا درخواست گزار کے وکیل اس درخواست سے متعلق سنجیدہ ہیں۔

جس پر وسیم رضوی نے اس درخواست کے حق میں دلائل دینے کے بجائے بھارت میں اسلامی مدارس اور ان میں دی جانے والی تعلیم کےمعاملے پر بحث شروع کردی جسے بینچ نے غیر ضروری دلائل قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی اس وقت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے حمایتوں میں سے ایک ہیں، وہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے حق میں بھی رہے۔

ان کی اس درخواست پر بھارت و پاکستان سمیت مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے، تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کے فیصلے کو مسلمانوں کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >