کوروناوبا کے دوران بھارتیوں کی انسانیت دم توڑنے لگی،سفاکی کی خبریں زبان زدعام

دنیا میں کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے بہت کچھ ایسا دکھایا ہے جو پہلے دیکھنے میں نہیں آیا مثال کے طور پر بلاتفریق امداد، احساس ذمہ داری اور ایسے رویے جن کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی۔

پڑوسی ملک بھارت میں بھی کورونا کے باعث حالات بے قابو ہیں اور اس کی ہلاکت خیزی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے مگر یہاں حالات دنیا سے بہت مختلف ہیں۔ بھارت میں عالمی وبا سے جانوں کو تو ہے ہی مگر یہاں انسانیت کو بھی خطرہ ہے۔

بھارت میں لوگ غریبوں اور مجبور لوگوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جیسے خودغرضی اور سفاکیت سے بھری اس سرزمین پر کبھی کسی نے محبت اور احساس کی بات ہی نہیں کی۔

حال ہی میں بھارت سے ایسے متعدد واقعات دیکھنے کو ملے ہیں جنہوں نے انسانیت کو لرزا کر رکھ دیا ہے جن کے سامنے آنے پر دماغ میں یہی خیال آتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو موت یاد نہیں؟ کیا یہ خود کو اس بیماری سے محفوظ تصور کرتے ہیں اسی لیے صرف پیسہ بنانے اور خود کو بچانے میں لگے ہیں؟

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ایک خبر سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ خاتون کا کورونا ٹیسٹ مثبت تھا اس کی بیٹی نے ماں کو گوروگرام میں ہسپتال میں بیڈ دلانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی تب اس نے اپنی ماں کو بچانے کے لیے لدھیانہ لیجانے کا سوچا تو ایمبولنس والے نے اس سے 350 کلومیٹر کے سفر کیلئے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کرائے کی مد میں وصول کیے۔

اس حوالے سے نئی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب اس ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے مطابق یہ کرایہ ایمبولینس والی کمپنی کی جانب سے وصول کیا گیا۔

اس سے کچھ روز قبل بھارت کے زیر قبضہ جموں کے علاقے میں شری مہاراجہ گلاب سنگھ اسپتال میں ایک 2ماہ کے بچے کو داخل کرایا گیا جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت تھا، اسپتال کے ایم ایس دارا سنگھ کے مطابق اس بچے کو کورونا کے علاوہ دل کی بھی بیماری تھی اور یہ بچہ دوران علاج اسپتال میں دم توڑ گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے بچے کے والدین کو متعدد بار فون کیے مگر اس بچے کی لاش لینے کے لیے کوئی نہ آیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچہ گزشتہ اتوار کی شام ساڑھے 8 بجے مر گیا تھا۔

اس سے بھی پہلے گزشتہ ماہ کے آخر میں بھارت میں ایک خاتون کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئی جس کا خاوند کام کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر میں تھا اور اس کا 2 سال کا بچہ اس کے پاس 2 دن تک بھوکا پیاسا پڑا رہا جسے بچانے یا مدد کیلئے کوئی آگے نہ بڑھا۔

2 روز بعد مالک مکان نے پولیس کو اطلاع دی جس پر خاتون پولیس اہلکاروں نے بچے کو اٹھا کر اسے خوراک دی، قریبی اسپتال سے اس بچے کا کورونا ٹیسٹ کرایا تو وہ بھی منفی تھا۔

بھارت میں ایسے واقعات کا یہ سلسلہ یہاں تھما نہیں بھارتی آئی پی ایس آفیسر ارون بوتھرا کے مطابق کچھ روز قبل کورونا کے ایک مریض کو پتم پورا کے علاقے سے فورٹس اسپتال لیجانے کے لیے ایمبولینس والے نے کورونا کے مریض سے 10 ہزار روپے کرایہ وصول کیا جبکہ اس کا فاصلہ صرف 4 کلومیٹر تھا۔

بھارت کے علاقے سری کاکولام سے بھی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کورونا کا مریض دم توڑ رہا ہے اور اس کی جوان بیٹی باپ کو پانی پلانے کی کوشش میں آگے بڑھ رہی ہے جبکہ اس کی ماں اسے باپ کے پاس نہیں جانے دے رہی۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر دل کو دہلا دینے والے ہیں جس میں باپ کی محبت اور اسے بچانے کی تڑپ میں بیٹی اسے پانی پلانا چاہ رہی ہے مگر دوسری جانب خود غرض خاتون ہے جو کہ بیٹی کو صرف اس ڈر سے باپ کو پانی پلانے کے لیے بھی پاس نہیں جانے دے رہی کہ اس طرح وہ کورونا کی شکار نہ ہو جائے اور بعد میں اسے اس سے وائرس نہ لگ جائے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>