اسرائیلی جارحیت سے متعلق صحافیوں کے تندوتیز سوالوں پر ترجمان یو این کی آئیں بائیں شائیں

اسرائیلی جارحیت سے متعلق صحافیوں کے تندوتیز سوالو پر ترجمان یو این کی آئیں بائیں شائیں

ترجمان اقوام متحدہ نے پریس بریفنگ کے دوران سوالات لینے شروع کیے تو صحافیوں نے تندوتیز سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کے فلسطین پر حملوں کے نتیجے میں ہونے والی جانوں کے ضیاع پر کوئی بیان یا مذمت سامنے کیوں نہیں آئی؟

ایک صحافی نے ترجمان اقوام متحدہ سے سوال کیا کہ کیا فلسطینی ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جواب میں ترجمان نے کہا کہ وہ عالمی قوانین کی وجہ سے اس سوال کا فی الوقت جواب نہیں دے سکتے۔ صحافی نے کہا کہ عالمی قوانین میں ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور فلسطین اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم کردہ ریاست ہے۔ اس پر ترجمان نے کہا کہ یہاں کھڑے ہو کر وہ اس پر بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

دوسرے صحافی نے سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر ہونے والے فضائی حملے کی مذمت کیوں نہیں کی؟ کیا کسی فلسطینی کی زندگی اسرائیلی کی زندگی سے کم قیمتی ہے؟

جس کے جواب میں ترجمان اقوام متحدہ بولے کے انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے۔ صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیا ترجمان فلسطینی لوگوں کی شہادت پر مذمت کا لفظ استعمال کریں گے؟ جواب میں ترجمان آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور کہا کہ جیسا بیان دیا گیا ہے اس کا ویسا ہی مطلب سمجھا جائے۔

صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیا اقوام متحدہ کو بطور ایک ذمہ دار عالمی ادارہ اسرائیل کو ایسے حملوں سے باز رہنے کیلئے نہیں کہنا چاہیے؟ جس پر ترجمان صحافی کو اس کی حدود بتانے لگے اور جواب دینے کے بجائے یہ کہہ دیا کہ وہ جتنا بول رہے ہیں صرف اتنے کو ہی خبر سمجھا جائے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >