کینیڈا:پاکستانی خاندان کو قتل کرنے والے دہشتگرد کی تصویر اور تفصیلات جاری

کینیڈا میں مسلمان خاندان کو قتل کرنے والے شخص کی نجی زندگی پر ایک نظر

کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں اتوار 6 جون کو ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص نے پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے 4 افراد کو گاڑی کے نیچے روند کر قتل کرڈالا۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے مذہب کی بنیاد پر چاروں افراد کو قتل کیا، کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حملہ آور نتھینیل ویلٹ مین ایک 20 برس کا نوجوان ہے جو اونٹاریو میں لندن کے قریب ایک پیکنگ پلانٹ پر انڈوں کو ڈبوں میں پیک کرنے کا کام کرتا تھا۔

دہشت قرا ر دیئے جانے والے نتیھینل کے پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ وہ اکثر اپنے فلیٹ پر اونچی آواز میں گیمز کھیلا کرتا تھا جس سے اردگرد کے لوگ کافی پریشان بھی رہا کرتے تھے، نتھینل کے دیگر مشاغل میں سڑک پر ہونے والی دوڑ میں حصہ لینا بھی شامل تھا جس کی قیمت 5 سے 10 ہزار ہوا کرتی تھی۔

نتھینل کے قریبی دوست نے اس کے بارے میں ایک نجی اخبار سے گفتگو کے دوران کہا کہ نتھینیل مذہبی لحاظ سے عیسائی تھا، وہ دوسروں کیلئے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتا تھا۔

نتھینیل کی گفتگو سے کبھی ایسا تاثر نہیں ملا تھا جس سے اندازہ ہوتا کہ وہ ایسا کوئی منصوبہ بنارہا ہے نہ ہی اس نے کبھی کسی ایسے انتہا پسند و مذہبی منافرت رکھنے والے گروپ کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا۔

نتھینیل کے ساتھ کام کرنے والے اس کے ایک ساتھی نے بتایا کہ کچھ عرصے سے وہ اپنے قریبی رشتے دار کے انتقال کے بعد کافی پریشان اور مضطرب نظر آرہا تھا۔

نتھینیل سوشل میڈیا پر خاص ایکٹو نہیں تھا،اس کا ایک غیر فعال سا پیج تھا اس پر درجن بھر لوگوں کی ریکوئسٹس موجود تھیں ، تاہم حملے کے اگلے روز ہی اس پیج کو بند کردیا گیا، فیس بک نے نتھینیل کا فیس بک اکاؤنٹ بھی یہ کہہ کر ڈیلیٹ کردیا کہ فیس بک پر ایسے لوگوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

دہشت گرد کو حملے کے بعد قریب واقع ایک شاپنگ سینٹر کی پارکنگ سے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے وقت اس نے ایک آہنی ساخت کی جالی پہن رکھی تھی جیسے قدیم دور کی افواج پہنا کرتی تھیں، دہشت گرد کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس پر قتل او ر اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

عدالت کے باہر گفتگوکرتے ہوئے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نے واقعے کے بعد ٹرک سے اتر کر خود چلا چلا کر کہا کوئی پولیس کو بلائے میں نے قتل کیا ہے، پولیس کے آنے کے بعد اس نے نازیبا الفاظ استعمال کرنا شروع کردیئے، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اسے اپنےکیے پر کوئی ملال نہیں ہے وہ اس سارے منظر سے فخر محسوس کررہا تھا کہ اس کےا ردگرد موجود لوگ اس کی ویڈیو بنارہے ہیں۔

پولیس نے دہشت گرد کی تصاویر جاری نہیں کی ہیں لیکن حملہ آور کی مختلف ذرائع سے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔۔

پولیس کا موقف ہے کہ جب تک دہشت گرد پولیس حراست میں ہے لوگوں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا تصویر جاری کرنے کاکوئی مقصد نہیں ہے، جائے واردات کے قریب لگے سی سی ٹی وی فوٹیجز پولیس نے اپنے قبضے میں لے لی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >