بھارت میں ٹویٹر کو حاصل استثنیٰ ختم، اب عہدیداران کے خلاف کاروائی ہوسکے گی

بھارتی حکومت نے ٹویٹر کو دیا گیا "محفوظ پلیٹ فارم” کا درجہ ختم کردیا ہے جس کے بعد سے کمپنی کے عہدیدارن کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز مواد کے مقدمات درج ہوسکتے ہیں
۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے نئے قواعد وضوابط نافذ ہونے جارہے ہیں جس کے بعد ٹویٹر کو حاصل قانونی تحفظ ختم ہوجائے گا اور اسے کسی بھی قسم کا تھرڈ پارٹی استثنیٰ حاصل نہیں رہے گا۔

قانونی تحفظ ختم ہونے کے بعد ٹویٹر پر شیئر ہونے والے ہر قسم کے مواد کی ذمہ دار کمپنی کو قرار دیا جائے گا اور کسی خلاف ورزی کے صورت میں کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکے گی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کی وجہ ٹویٹر کی جانب سےآئی ٹی کے نئے قواعد وضوابط پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے کا اقدام ہے۔

تاہم ٹویٹر انتظامیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بھارت میں عبوری چیف تعمیل افسر کو تعینات کردیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات جلد وزارت آئی ٹی کوارسال کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ ٹوئٹر کافی عرصے سے مودی سرکار کے عتاب میں ہے جس پر ٹوئٹر کمپنی کو عدالت بھی جانا پڑا۔ مودی سرکار پر الزام ہے کہ وہ ٹوئٹر انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ کورونا سے مواد ہٹانے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔

ٹوئٹر انتظامیہ نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ہمیں پولیس کی جانب سے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے استعمال سے تشویش ہے اور جن لوگوں کو ہم خدمات فراہم کرتے ہیں ان کے لیے آزادی اظہار رائے کا خدشہ ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>