کینیڈا کی سپریم کورٹ میں پہلی بار مسلمان جج کی تعیناتی

سپریم کورٹ آف کینیڈا میں خاتون جج جسٹس روزالی ابیلا کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس محمود جمال کو جج نامزد کر دیا گیا، جسٹس روزالی کینیڈا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک جج کے منصب پر فائز رہیں۔ جسٹس محمود جمال کو وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے نامزد کیا گیا وہ کینیڈا کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے پہلے مسلمان جج ہوں گے۔

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جسٹس محمود جمال کی نامزدگی کو تاریخی قرار دیا اور ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ مجھے علم ہے کہ غیر معمولی قانونی، اکیڈمک اور اپنی خدمت کے عزم کے باعث جسٹس محمود جمال سپریم کورٹ کا اہم اثاثہ ہوں گے جس کے باعث انہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

جسٹس محمد جمال 1967 میں نیروبی میں پیدا ہوئے جس کے بعد ان کے اہلخانہ 1969 میں برطانیہ ہجرت کر گئے جب کہ 1981 میں پھر ان کا خاندان کینیڈا منتقل ہوا, انہوں نے ابتدائی تعلیم کینیڈا میں ہی حاصل کی، اس کے علاوہ انہوں نے لندن اور ٹورنٹو سے بھی ڈگریاں لیں۔

جسٹس محمود جمال 2019 سے اونٹاریو کورٹ آف اپیل کے جج تھے اور سپریم کورٹ میں کئی مقدمات کی بھی پیروی کی، جسٹس جمال یکم جولائی کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ کینیڈا کی 146 سالہ تاریخ میں سپریم کورٹ میں سفید فام ججوں کی تعیناتی کی گئی ہے اور اب جسٹس محمود جمال تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے مسلمان جج بنیں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >