سری لنکا کا مسلمانوں کی تذلیل کرنے والے فوجیوں کی تفتیش کا فیصلہ

سری لنکا کا مسلمانوں کی تذلیل کرنے والے فوجیوں کی تفتیش کا فیصلہ

سری لنکا میں مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کی وجہ سے آئے دن نفرت اور شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اتوار کے روز سری لنکا ملٹری نے اپنے فوجیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جب سوشل میڈیا پوسٹوں پر دکھایا گیا تھا کہ فوجیوں نے لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کی سزا کے طور پر اقلیتی مسلمانوں کو سڑکوں پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

ملک کے دارالحکومت کولمبو سے 300 کلومیٹر مشرق میں واقع ایوراور قصبے میں مسلح فوجیوں نے مسلمان شہریوں کو ہوا میں ہاتھ اٹھا کر سڑک پر گھٹنے ٹیکنے کا حکم دیا۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ وہ اس حکم کو مسلمانوں کو بدنام اور رسوا کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں جبکہ عہدیداروں کی جانب سے بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو ایسی سزائیں دینے کی اتھارٹی نہیں ہوتی۔ علاقہ مکینوں کے مطابق متاثرین کھانا خریدنے کے لئے ریستوران جارہے تھے۔

سری لنکا کا مسلمانوں کی تذلیل کرنے والے فوجیوں کی تفتیش کا فیصلہ

سری لنکا کی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایوراور کے علاقے میں مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے والی کچھ تصاویر وائرل ہونے کے بعد ملٹری پولیس نے ابتدائی تفتیش شروع کردی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انچارج افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ اس واقعہ میں شامل فوجیوں کو قصبہ چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ فوج نے تحقیقات پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام گمراہ فوجی جوانوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی اختیار کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں کورونا وائرس کی تیسری لہر پر قابو پانے کے لئے ایک ماہ کا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اپریل کے وسط میں لہر کے آغاز کے بعد سے اب تک وائرس سے اموات کی تعداد چار گنا سے بڑھ کر 2531 ہوگئی ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>