ہمارے معاشرے میں عورت کے پردے کا تصور فتنہ سے بچنا ہے:وزیراعظم کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی ایچ بی او ایکسیس کے جوناتھن سوان کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ نائن الیون کے بعد یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا، پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے پردے کا تصور فتنہ سے بچنا ہے، مغرب اور ہماری ثقافت میں بہت زیادہ فرق ہے۔

افغان جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو افغانستان سے انخلا سے قبل افغان مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ، سرحد پار کے انسداد دہشت گردی پروگرامز کے لئے اپنی سر زمین کے استعمال کی اجازت "بالکل نہیں” دے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا افغانستان سے نکلنے سے قبل اس مسئلے کا سیاسی حل نکالے کیونکہ امریکا افغان جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا۔ ہم امن چاہتے ہیں، اب کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، ملک میں 30 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں ، امریکا افغان جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی بھی شہید ہوئے۔

یاد رہے کہ امریکا نے11 ستمبر تک افغانستان سے مکمل انخلا کا اعلان کر رکھا ہے۔ افغان امریکا جنگ سے متعلق افغان صدر اشرف غنی نے گزشہ ماہ جرمن خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے اب امریکا کا محدود کردار ہے جبکہ اب افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے پاکستان مرکزی کردار ادا کرے گا۔

مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا تو عمران خان نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ مغربی دنیا میں کشمیریوں کو کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے؟ یہ مغرب کے لیے ایشو کیوں نہیں؟ وزیراعظم نے کہا کہ یہ منافقت ہے، 8 لاکھ بھارتی فوجیوں نے کشمیر کو کھلی جیل بنا رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ہوں، ہمارے جوہری ہتھیار دفاع کے لیے ہیں، جب سے ہم نے ایٹمی دفاعی صلاحیت حاصل کی تب سے کم ازکم بھارت سے جنگ نہیں ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے پردے کا تصور فتنہ سے بچنا ہے، مغرب اور ہماری ثقافت میں بہت زیادہ فرق ہے۔

پاک چین تعلقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، چین نے پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے بھی ریسکیو کیا، کورونا کے دوران بھی طبی اور تکنیکی صلاحیتوں سے پاکستان کی مدد کی۔

عمران خان نے بتایا کہ جب کورونا آیا تو کئی سیاسی رہنماؤں نے مکمل لاک ڈاون کا کہا جبکہ ملک کی 70 فیصد سے زائد آبادی دیہاڑی دار ہے، ان پر لاک ڈاؤن نہیں لگا سکتے، ہم نے ملک میں کورونا کے خلاف اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کیا، این سی اوسی کی سفارشات پر ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا،ا للہ پر یقین اور فوری اقدامات کی وجہ سے کورونا پر قابو پایا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >