کیوبا نے بینکوں کو امریکی ڈالرز میں لین دین نہ کرنے کی ہدایت کر دی، مگر کیوں؟

 کیوبا نے بینکوں کو امریکی ڈالرز میں لین دین نہ کرنے کی ہدایت کر دی، مگر کیوں؟

کیوبا کے مرکزی بینک نے حکومت کے امریکی ڈالرز نقدرقم کے طور پر قبول نہ کرنے سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد کروانا شروع کردیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد تجارتی پابندیوں سے نمٹنے کیلئے کیوبا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نقد رقم میں امریکی ڈالرز کو قبول کرنا بند کیا جائے گا جس کے بعد کیوبا کے مرکزی بینک نے اس حوالے سے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کردیں ہیں کہ پیر سے کوئی بھی بینک امریکی ڈالر نقد رقم کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔

کیوبا کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایک سال قبل کیوبا کے بینکوں کو عالمی سطح پر بینکوں میں امریکی ڈالر ڈیپازٹ کروانے سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد مقامی سطح پر امریکی ڈالر کیلئے یہ اقدام ضروری تھا۔

اس فیصلے کے برقرار رہنے کا انحصار امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد پابندیوں کے برقرار رہنے پر ہے۔

واضح رہے کہ سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1962 سے کیوبا پر عائد تجارتی پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے کیوبا کی ترسیلات زر معطل کرنے کے ساتھ ساتھ مزید 240 کے قریب پابندیاں عائد کردی تھیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>