کینیڈا کے ایک اور سابق بورڈنگ اسکول سے اجتماعی قبریں دریافت، جانیں ماجرا کیا ہے؟

کینیڈا کی ریاست سسکیچوان کے ایک نواحی علاقے میں شہر سے 140 کلومیٹر دور ایک اور پرانے بورڈنگ اسکول سے اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جو کہ بے شمار قبائلی بچوں کا مدفن بنا ہوا ہے۔ یہ بورڈنگ اسکول 1899 سے 1997 تک چلتا رہا ہے۔

اس واقعہ سے متعلق قبائلی افراد کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں نامعلوم افراد کی بڑی تعداد میں قبریں ہیں جن میں سے کئی کا اب پتہ چل رہا ہے یہ کینیڈا میں آج تک کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے اس پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہاں واقعہ قبرستان کا 1970 میں کنٹرول فرسٹ نیشن نے لیا تھا، اس کے بعد یہاں پر واقع قبروں پر تحقیق کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کینیڈا کے ایک پرانے بورڈنگ اسکول سے اجتمائی قبریں دریافت ہوئی تھیں جن سے 215 بچوں کی باقیات نکالی گئی تھیں۔ اس اسکول کو بھی 1978 میں بند کیا گیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق یہاں سے ملنے والی باقیات برٹش کولمبیا کے شہر کملوپس سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تھیں۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے مطابق 19ویں اور 20ویں صدی کے درمیان کینیڈین حکومت اور مذہبی حکام کے زیر انتظام چلنے والے ان بورڈنگ اسکولوں میں قدیم مقامی نسل کے بچوں کو اپنے والدین سے الگ رکھ کر انہیں نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے کیلئے مجبور کیا جاتا تھا اور انکار پر انہیں دفن کر دیا جاتا تھا۔

  • These goras are really pathetic race. They have not changed a bit in cruelty towards other races. They just believe in survival of fittest, but they always blackmail others esp Muslims on human rights, democracy or any other bhana.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >