مودی کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑگئی، کشمیر پر اے پی سی ناکام

بھارت نواز مخصوص کشمیری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل بھاری وزیراعظم نریندر مودی کی اے پی سی بری طرح ناکام ہوگئی ہے، کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے ہی مودی کے اقدامات کی مخالفت کردی۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت سمیت دیگر تمام مسائل پر گفتگو کا جھانسہ دے کر بلائی گئی مخصوص کشمیری سیاسی جماعتوں پر مشتمل اے پی سی کا ڈرامہ صر ف ساڑھے 3 گھنٹے تک ہی جاری رہ سکا ۔

کانفرنس کے ناکام ہونے کا بھانڈا بھی خود بھارتی میڈیا نے ہی پھوڑا اور کہا کہ نریندر مودی نے مقبوضہ وادی کی 14 مخصوص جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ملاقات بھی ایسی جس کا کوئی ایجنڈا تھا اور نہ ہی اس میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے حریت جماعتوں کا ایک بھی نمائندہ شامل تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مودی کا مقصد ان رہنماؤں کو شیشے میں اتار کر کشمیر میں ہونے والے آئندہ انتخابات کیلئے ماحول کو اپنی حمایت میں کرنا تھا ، مگر اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیر رہنماؤں نے بھی مودی کے 5 اگست 2019 کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے۔

مودی کی اے پی سی کو ڈرامہ صرف میڈیا یا کشمیری رہنماؤں نے قرار نہیں دیا بلکہ بھارت کے اندر سے اس اے پی سی کو ایک فلاپ شو قرار دیا گیا، کانگریس کے رہنما چدم پرم نے مودی کے 5 اگست کے اقدام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلی مغربی بنگال ممتا بینرجی نے کہا کہ پوری قوم مودی کے 5 اگست کے اقدامات پر شرمندگی کا شکار ہے۔

کشمیر کے حریت رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے بھی مودی کی اس اے پی سی ڈرامہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سال کا سب سے بڑا مذاق ہے کیونکہ کشمیریوں کی اصل نمائندگی کرنےوالے حریت رہنماؤں کو مودی کی حکومت جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنارہی ہے ، کشمیریوں کو گھروں میں یرغمال بنا کر رکھا ہے اور کٹھ پتلیوں کو بلا کر ایک تھیٹر لگایا لیا ہے۔

دوسری جانب اس اے پی سی کے موقع پر کشمیر کو بھارتی فورسز نے ایک چھاؤنی میں تبدیل کردیا، وادی میں مکمل طور پر کرفیو اور ہائی الرٹ نافذ کیا گیا، انٹرنیٹ اور ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>