طالبان کابینہ میں کون کون ہوگا؟ ممکنہ نام منظر عام پر

افغان طالبان کی جانب سے حکومت سازی کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں، اہم عہدوں پر کئی وزرا تعینات کئے جاچکے ہیں اور اب عبوری حکومت سازی کے لیے مشاورت مکمل کرلئے گئے ہیں، جس کے بعد کابینہ میں شامل ہونے والے متوقع نام منظر عام پر آگئے ہیں،طالبان سربراہ ملاہیبت اللہ نے عبوری کابینہ کے لیے ناموں کی منظوری دے دی،عبوری حکومت کا اعلان آئندہ دو روز میں متوقع ہے۔

رہبری شوریٰ اجلاس کے بعد ملا برادر قندھار سے کابل پہنچے ہیں، جنہیں رئیس شوریٰ کی ذمہ داری ملنے کا امکان ہے،ملا یعقوب کو وزیردفاع اور سراج الدین حقانی کو وزیرداخلہ کی کمانڈ سونپے جانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں، دونوں طالبان رہنما طالبان سربراہ ملا ہیب اللہ کے نائب کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں،طالبان دعوت و رہنمائی کمیشن کے سربراہ مولوی امیر خان متقی کو وزارت خارجہ کی کمانڈ ،ملنے کا امکان ہے تو ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو عبوری حکومت کا وزیر اطلاعات بنایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن کہتے ہیں کہ طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا،کابل سے شہریوں اور فوجیوں کے انخلا کا چیلنج پورا کیا،افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں،امریکیوں کی اگلی نسل کو ایسی جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے جو بہت پہلے ہی ختم ہوجانی چاہیے تھی،سو سے دوسو امریکی باشندے اب بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد قوم سے خطاب میں کہا کہ طالبان کی باتوں پر یقین نہیں ان کے عمل کو دیکھیں گے،انخلا کا فیصلہ اس یقین پر کیا کہ افغان حکومت ملک سنبھال لے گی لیکن اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی ملک سے فرار ہوجائے گا،امریکی صدر نے کہا کہ چین اور روس کی جانب سے بہت سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے روس اور چین چاہتے ہیں کہ امریکا افغانستان میں الجھارہے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>