فرار سے پہلے اشرف غنی اور جوبائیڈن کے درمیان آخری بار فون پر کیا گفتگو ہوئی؟

فرار سے پہلے اشرف غنی اور جوبائیڈن کے درمیان آخری بار فون پر کیا گفتگو ہوئی؟

افغانستان میں طالبان کے قابض ہونے سے قبل سابق افغان صدر اشرف غنی نے اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی جس کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان 23 جولائی کو 14 منٹ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں فوجی امداد، سیاسی صورتحال اور پیغام رسانی کی منصوبہ بندی کے حوالے سے امور زیر غور آئے۔

اس دوران دونوں رہنماؤں کے انداز گفتگو سے یہ بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ آنے والے خطرے سے آگاہ ہیں یا انہیں اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں کیا صورتحال پیدا ہونے والی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے درمیان امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس دوران جو بائیڈن نے اشرف غنی کو تجویز دی کہ امریکی فوج کے جانے کے بعد آپ عوام سے کہیں کہ آپ کے پاس افغانستان کی صورتحال کو سنبھالنےکا ایک منصوبہ ہے اور اگر امریکیوں کو اس منصوبے کا علم ہوگیا تو وہ ہماری فضائی مدد جاری رکھیں گے۔

طالبان کے آگے ڈھیر ہونے کے بعد جو بائیڈن کی شدید تنقید کا نشانہ بننے والی افغان فورسز اس فون کال کے دوران جو بائیڈن کی آنکھ کا تارا نظر آئی، جو بائیڈن نے افغان فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس بہترین فوج موجود ہے 70 سے 80 ہزار جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کیلئے تین لاکھ کی ایسی فورس ہے جو بہترین انداز میں لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

طویل ٹیلی فونک رابطے کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے اشرف غنی کو آئندہ آنے والے دنوں میں سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بہت سے مشورے دیئے اور ان کی سیاسی، معاشی اور عسکری حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی کیا، وائٹ ہاؤس نے اس فون کال پر فوری طور پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یادرہے کہ 15اگست کو سابق افغان صدر اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر ملک سے باہر چلے گئے تھے جس کے بعدطالبان کابل میں داخل ہوگئے اور انہوں نے صدارتی محل پر قبضہ بھی کرلیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>