اسلامی امارات افغانستان کی نئی انتظامیہ کے نام فائنل، آئندہ ہفتے میں اعلان متوقع

افغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کیلئے نئی انتظامی حکومت کی تشکیل کا کام آخری مراحل میں ہے تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو سربراہ مملکت بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ان کی عمر 61 برس ہے، سربراہ طالبان کی قیادت میں حکومت کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔

ملا ہیبت اللہ اخونزادہ سے متعلق دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ افغان آرمی کے کمانڈر انچیف بھی ہوں گے۔ طالبان کے گزشتہ دور حکومت کے دوران 1996 سے 2001 تک سربراہ تحریک ملا عمر بھی سربراہ مملکت تھے اور وہی افغان فوج کے کمانڈر انچیف بھی تھے۔ وہ 2013 کے دوران روپوشی میں ہی انتقال کرگئے تھے۔

ہیبت اللہ اخونزادہ ملا عمر کے بعد افغان طالبان کے سربراہ مقرر ہونے والے ملا اختر منصور کے نائب تھے مگر جولائی 2015 کے دوران ایک بار پر طالبان کے سربراہ ایک ڈرون حملے میں مارے گئے جس کے بعد طالبان کی کمان ہیبت اللہ اخونزادہ کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ وہ طالبان کے سربراہ بننے کے بعد ابھی تک روپوش ہیں اور کوئی ان کا اصل ٹھکانہ نہیں جانتا۔

اس وقت ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے 3 نائب ہیں جن میں ملا عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گُل آغا کو وزیر خزانہ مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ وزارت دفاع کیلئے ملا یعقوب مضبوط امیدوار ہیں، ملایعقوب سابق افغان طالبان سربراہ ملا عمر کے بیٹے ہیں۔

دوسری جانب دیگر اہم وزارتوں میں وزارت داخلہ کیلئے صدر ابراہیم وزارت سنبھالیں گے۔ خلیل حقانی افغانستان میں امن و عامہ کی صورتحال کے ذمہ دار ہوں گے۔

شیر محمد عباس ستانگزئی کو وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ جب کہ دیگر عہدوں کیلئے نام فائنل کر کے اعلان آئندہ ہفتے کے دوران کیا جا سکتا ہے۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر جمعرات تک اعلان کیا جا سکتا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>