مصر میں 7 پاکستانیوں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا

مصر میں 7 پاکستانیوں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا

مصر کی مقامی عدالت نے منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں2 مصری اور8 غیر ملکیوں کو موت کی سزا سنادی ہے، غیر ملکیوں میں 7 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مصر کی عدالت نے 2019 میں بحیرہ احمر سے اسمگل کرکے ملک میں لائی گئی بھاری مالیت کی منشیات کو اسمگل کرنے اور چھپا کررکھنے کے الزام میں 10 افراد کو سزائے موت سنائی۔

جن افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ان میں سے 7 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے ، 1 شخص کا تعلق ایران جبکہ 2 مصری باشندے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسمگل کی گئی منشیات کی مالیت ڈھائی ارب پاؤنڈ یعنی 15 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، منشیات میں 100 کلو گرام مقدار کی کرسٹل میتھا مفیٹا مائن بھی شامل تھی۔

تفتیش کےدوران ثابت ہوا کہ ملزمان نے منشیات کو شپمنٹ کے مقام کی تفصیلات بتائے بغیر بحری جہاز کے ایک خفیہ خانے میں چھپا رکھی تھی۔

واضح رہے کہ عرب ممالک میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک مصر میں مجرموں کو قانون کے مطابق نہ صرف موت کی سزا سنائی جاتی ہے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے ،2019 میں پھانسی پر چڑھائے گئے مجرموں کی تعداد 32 تھی جو 2020 میں بڑھ کر107 تک پہنچ گئی تھی۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقومی تنظیمیں مصر میں سزائے موت کی بڑھتی ہوئی شرح کی مذمت کرتی اور مصر پر اس قانون کو بدلنے کے مطالبات کرتی رہتی ہیں۔

  • پاکستان کو بھی اب منشیات کے سمگلرز پر کریک ڈاون کرنا چاہئے اور ان کو سزاے موت دلوانی چاہئے ورنہ پاکستان کی بدنامی منشیات سمگل کرنے والے ملک ک طور پر بہت جلد دنیا میں مشہور ہونے والی ہے جس کے بعد گرین پاسپورٹ مزید نیچے گرجاے گا اگرچہ اس سے مزید نیچے تو گرنے سے رہا مگر شائد بین ہوجاے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >