امریکی سینیٹر نے مستقبل میں امریکی فوج کےدوبارہ افغانستان جانے کا عندیہ دیدیا

امریکی سینیٹر نے مستقبل میں امریکی فوج کےدوبارہ افغانستان جانے کا عندیہ دیدیا

امریکی سینیٹر گراہم لِنڈسے نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں دوبارہ امریکی فوج بھجوانے کا عندیہ دیدیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ری پبلکن سینیٹر گراہم لِنڈسے نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ دہشت گردی کا ایک بڑا خطرہ اس وقت بھی دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے اسی لیے مستقبل میں امریکی فوج کو دوبارہ افغانستان جانا پڑے گا۔

انہو ں نے مزید کہا کہ نوے کی دہائی دوبارہ دہرائی جارہی ہے، دہشت گردی ایسا معاملہ نہیں ہے جسے ایسے ہی چھوڑدیا جائے، طالبان کے نظریات موجودہ دور کے نظریات کے یکسر خلاف ہیں اور طالبان جس طرز پر افغانستا ن میں حکومت قائم کریں گے وہ ہمارے لیے باعثِ تکلیف ہوگا۔

گراہم لِنڈسے نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ طالبان ایک بار پھر القاعدہ کو پھلنے پھولنے کیلئے محفوظ مقام فراہم کریں گے اور القاعدہ امریکہ کو پسند نہیں کرتی تو وہ لازمی ہم پر حملہ کریں گے، القاعدہ کی کوشش ہوگی کہ ہمیں مشرق وسطیٰ سے باہر نکال دیا جائے۔

امریکی سینیٹر نے موجودہ صورتحال کو نوے کی دہائی سے مماثلت دیتے ہوئے کہا کہ نوے کی دہائی میں افغانستان پر طالبان کی حکومت کے دوران بھی خواتین پر پابندیاں عائد کی گئی، بچیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی گئی، ہزارہ سمیت تمام اقلیتوں کا قتل عام کیا گیا اور پھر نائن الیون کا سانحہ رونما ہوا۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال ایک بار پھر اسی طرف جائے گی اور تاریخ خود کو دہرائے گی جس کےبعد امریکی فوج کو ایک بار پھر افغانستان میں بھیجنا پڑے گا۔

  • امریکی حملے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ طالبان کسی دھشت گرد تنظیم کو اپنے ملک میں پناہ نہ دیں اور تعلیمی ادارے اور جابز خاص کر خواتین کے شعبوں کو بحال کریں اور انہیں ازادی سے اپنے امور سرانجام دینے دیں جیسے افغان حکومت کے دور میں آزادی تھی وہی آج بھی ہونی چاہئے اس دور میں کوی افغان لڑکی کے ایک بھی زیادتی کا کیس نہیں تھا مگر اب خواتین پر تشدد جابز کرنے والی خواتین کی حراست اور قید میں ان کی ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >