طالبان حکومت نسلی اور مذہبی لحاظ سےافغان قوم کی نمائندہ نہیں ہے،یورپی یونین

طالبان حکومت نسلی اور مذہبی لحاظ سےافغان قوم کی نمائندہ نہیں ہے،یورپی یونین

یورپی یونین نے افغانستان میں طالبان کی نئی عبوری حکومت کے قیام پر اپنا موقف پیش کردیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے ترجمان کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم امید کررہے تھے کہ طالبان کی حکومت گزشتہ ہفتوں میں کیے گئے وعدوں کے مطابق ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت میں شامل افراد کے ناموں پر ابتدائی طور پر غور کے بعد یورپی یونین اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ نئی حکومت نسلی اور مذہبی لحاظ سے غیر جامع ہے اور یہ افغان قوم کی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔

قبل ازیں چین کی جانب سے نئی افغان حکومت کے حوالے سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں طالبان حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا تھا بلکہ ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ چین افغانستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کےساتھ روابط قائم کرنے کیلئے تیار ہے،افغانستان کی آزادی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز افغانستان کی نئی حکومت اور 27 رکنی کابینہ کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند ریاست کے سرپرست یعنی عبوری وزیراعظم ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی برادر وزیراعظم کے نائب اور معاون ہوں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >