تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کھاریاں کا عملہ حاضری لگا کر غائب

آج صبح ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گجرات ڈاکٹر ذاکر رانا نے تحصیل ھیڈ کوارٹر ہاسپٹل کھاریاں کا اچانک وزٹ کیا


اپنے وزٹ کی رپورٹ سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گجرات اور سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو پیش کرتے ہوئے ڈی ایچ او کا کہنا تھا کہ میں نے 09.45 پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کھاریاں کا دورہ کیا جہاں 6 کنسلٹنٹ ڈاکٹرز ڈیوٹی سے غائب تھے۔ حاضری رجسٹر پر انکی حاضری درج تھی اور بائیو میٹرک بھی ان کو حاضر بتا رہا تھا ۔


ڈی ایچ او کا کہنا تھا کہ ہسپتال کا تقریبا تمام میڈیکل سٹاف یونیفارم کے بغیر تھا جنہوں نے سرکاری جاب کارڈز بھی آویزاں نہیں کر رکھے تھے مریض منتظر تھے اور ڈاکٹرز موبائل پر مصروف


دوسری جانب ڈی ایچ او کے جانے کے بعد ڈاکٹرز نے ان کے روئیے کے خلاف ہڑتال کر دی ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ او زبردستی لیبر روم میں داخل ہو گئے جہاں لیڈی ڈاکٹر ایک خاتون مریضہ کا پراسیس کر رہی تھیں ۔ جس پر تلخ کلامی ہوئی۔
پی ایم اے گجرات نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایچ او (Preventive ) ذاکر رانا کے نامناسب روئیے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانے کا عندیہ دیا ہے

ڈی ایچ او ڈاکٹر ذاکر رانا کا موقف
کل صبح ڈی ایچ او گجرات ڈاکٹر ذاکر رانا نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کھاریاں کا اچانک دورہ کیا جہاں چھ کنسلٹنٹ ڈاکٹرز ڈیوٹی سے غائب تھے
دوسری جانب ان کے جاتے ہی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے موصوف کے نامناسب روئیے کے خلاف ھڑتال کردی لیڈی ڈاکٹر کا الزام تھا کہ ڈی ایچ او زبردستی لیبر روم میں داخل ہو گئے جہاں ایک خاتون مریضہ نامناسب حالت میں زیر علاج تھیں
کوٹلہ نیوز اینڈ ویوز کو اس ضمن میں اپنا موقف دیتے ہوئے ڈی ایچ او ڈاکٹر ذاکر رانا نےمؤقف اختیار کیا :
"تحصیل ھیڈ کوارٹر ہاسپٹل کھاریاں کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کے پورٹل پر عرصہ سے بہت سی شکایات تھیں کہ ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے میں نے مسلسل ایم ایس سے اصلاح احوال کا کہالیکن صورتحال جوں کی توں رہی ۔ اب میں پچھلے ایک ہفتے سے اس سارے عمل کو مانیٹر کر رہا تھا اور بائیو میٹرک سسٹم ضلعی دفتر سے منسلک ہےجہاں سے سب کچھ دیکھا جا سکتا یے ۔ ڈاکٹرز نے معمول بنا رکھا یے کہ صبح سویرے جاگنگ ٹریک میں ہسپتال آئے یا بچوں کو سکول چھوڑنے آئے تو واپسی پہ ہسپتال سے گزرے حاضری لگائی بائیو میٹرک پر بھی اپنے انگوٹھے ثبت کئے اور پھر غائب
میں 09.45 پر ہسپتال پہنچا اور سیدھا ان غیر حاضر ڈاکٹرز کے دفاتر کی جانب رخ کیا ۔ جہاں یہ چھ کنسلٹنٹ غیر حاضر تھے ۔ لیڈی ڈاکٹرز کے تو کمرے ہی بند تھے ۔ ڈاکٹرز کی خالی کرسیاں گواہ ہیں ۔ میں نے ایم ایس کو آن بورڈ اس لئے نہیں لیا کہ اگر ان کے پاس جاتا تو وہ فون کر کے غیر حاضر ڈاکٹرز کو بلوا لیتے
لیبارٹری میں غیر متعلقہ out siders افراد موجود تھے جو مال پانی بنانے میں لگے تھے
ڈینٹل سرجن صاحب اندر اپنے موبائل پر مصروف تھے جبکہ مریض اندر ان کے منتظر تھے ”
لیبر روم میں داخل ہونے کے الزام کی وضاحت
جب ڈی ایچ او سے پوچھا گیا کہ لیڈی ڈاکٹر نے آپ پہ الزام عائد کیا ہے کہ آپ زبردستی لیبر روم میں داخل ہو گئے جہاں ایک خاتون مریضہ نامناسب حالت میں تھیں تو اس کے جواب میں ڈی ایچ او نے جو کہا سن لیجئے
” عرض یہ ہے کہ اول تو میں خود ایک ڈاکٹر ہوں ۔ جس کا لیبر روم جانے پہ کوئی پابندی نہیں دوسرا میں ڈی ایچ او ہوں ایک ذمہ دار آفیسر مجھے کیا علم نہیں کہ کیا پیشہ ورانہ manners ہوتے ہیں ۔
حقیقت اس کے برعکس ہے ہوا یہ کہ گائنا کالوجسٹ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھیں انکی غیر حاضری چھپانے کے لئے جھوٹ بولا گیا کہ وہ لیبر روم میں مریضہ کا علاج کر رہی ہیں ۔ جس پر میں اس کی تصدیق کے لئے گیا ضرور
لیکن لیبر روم سے پہلے ایک پری لیبر روم ہوتا ہے وہاں تک
اور وہاں لیڈی ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک نرس مریضہ کو برانولا پاس کر رہی تھیں اپنی نااہلی ، عدم موجودگی اور فرائض سے غفلت چھپانے کی خاطر یہ واویلا کیا گیا اور الزام تراشی کر کے اس سارے سلسلے پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی
ھسپتال کے سارے CCT کیمرے لاہور سے منسلک ہیں جہاں سے ریکارڈنگ مل سکتی ہے میں نے اپنے اعلی حکام کو مطلع کر دیا یے اور سی سی ٹی فوٹیج اس الزام کی قلعی بھی کھول کر رکھ دے گی کہ میں لیبر روم تک گیا یا پری لیبر روم تک
میرا کسی سے کوئی ذاتی عناد یے نہ کوئی مسئلہ
میں نے جو کیا وہ میرے منصب کا تقاضا تھا جس کی رپورٹ میں اپنے اعلی حکام کو دے چکا ہوں


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>