حکومت نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز تیار کرنے کیلئے کام شروع کردیا

حکومت نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز تیار کرنے کیلئے کام شروع کردیا

ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی قائم کردہ سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کے لیےخصوصی ٹاسک فورس نے مصنوعات تیار کرنے والی مقامی کمپنیوں کو وینٹی لیٹرز تیار کرنے کیلئے نمونہ جات کل تک جمع کروانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت کل وینٹی لیٹرز کی تعداد 1700 ہے، جو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کیلئے ناکافی ہے۔
خصوصی ٹاسک فورس کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر عطاالرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں وینٹی لیٹرز کی قلت کے باعث حکومت نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز تیار کرنے پر کام شروع کردیا ہے اور لوکل مینوفیکچر رز کو وینٹی لیٹرز کے نمونہ جات تیار کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں، ان نمونہ جات کی بنیاد پرحکومت بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز کی تیاری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کرےگی تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نمونہ جات کی تیاری کے بعد محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا جس کے بعد ہی پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی تیاری سے متعلق حتمی فیصلہ کرسکیں گے۔

ڈاکٹر عطاالرحمان جو کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی کورونا وائرس سے متعلق خصوصی ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے سے کچھ ادویات کا کورونا وائرس کے خلاف کلینیکل ٹرائل بھی شروع کیا جائے گا، یہ ادوایات ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے گنگا رام ہسپتال کی ڈاکٹرسحر رضا کا کہنا تھا کہ اگر ہم مقامی سطح پر مہنگی اور جدید طبی مشینری خصوصا وینٹی لیٹرز بنانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ ایک بہترین کامیابی ہوگی، انہوں نے وینٹی لیٹرز کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ وینٹی لیٹرز شدید تشویش ناک حالت کے مریض کو مصنوعی طور پر سانس دینے کیلئے استعمال ہوتے ہیں،

ایسے امراض جن میں مریضوں کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے سے مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو تو مریض کے جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے مریض کی موت ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ایسی صورت میںجسم میں آکسیجن کی ضرورت کو وینٹی لیٹر کے ذریعے پورا کرتے ہیں جب تک مریض خود سانس لینے کے قابل نہیں ہوجاتا۔
حکومت کے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز تیار کرنے کے ارادے کو دیگر شعبہ جات سے منسلک افراد نے بھی سراہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ملک میں ایمرجنسی آلات کی ضروریات پوری ہوسکیں گی بلکہ بیرون ملک سے ایسی مشینری امپورٹ کرنے پر آنے والی لاگت میں بھی کمی آئے گی، ساتھ ساتھ مقامی سطح پر نوجوانوں اور سائنس کے شعبے سے وابستہ افراد کو بھی اپنی صلاحیت آزمانے کے مواقع میسر آئیں گے۔

    Senator (1k + posts)

    Patwari kahengay is ka faisla bhi mian sb kay dor main kar liya gaya tha. Niazi sb hamaray monsoobon per apna naaam laga rahay hain :))) Dubb kay mar jao patwario aur bhutwario…none of your leaders were sincere with the country…

    Chief Minister (6k + posts)

    They should try using one ventilator for two patients like it’s being trialed in New York State, after all, necessity if the mother of invention.

    (8 posts)

    about fucking time…. about fucking time….
    Finally we know nuclear deterrence can not be used to curb corona…
    About fucking time….. today is a good day.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More