پاکستان کے پہلے کورونا وائرس مریض یحیی جعفری کو وائرس کیسے لگا؟اور ہسپتال میں کیا بیتی

پاکستان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے پہلے مریض نے اپنی کہانی سنادی

پاکستان کے پہلے کورونا وائرس مریض یحیی جعفری کو وائرس کیسے لگا؟

کراچی میں سامنے آنے والے کورونا سے متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ میں 6 فروری کو اپنے 2 گہرے دوستوں اور چند زائرین کے ہمراہ ایران گیا تھا،ہم نے ایران کے شہر قم ، مشہد اور تہران میں مذہبی مقامات پر حاضری دی اور 20 فروری کو پاکستان واپس لوٹ آئے۔
تب تک ایران کے شہر قم میں کورونا وائرس کی وبا بری طرح پھیل چکی تھی، لیکن کراچی پہنچنے کے بعد مجھ میں کسی قسم کی کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں ، مجھے بخار، کھانسی، زکام یا سانس میں دشواری جیسی کوئی پریشانی پیش نہیں آئی، لیکن پھر بھی میں نے اپنے فیملی ڈاکٹر کی تجویز پر ایک لوکل ہسپتال جاکر اپنے خون کے ٹیسٹ کروائے۔

میرے خون ٹیسٹ کی رپورٹ اچھی نہیں بہترین آئی، اس میں کوئی بات بھی پریشانی کی نہیں تھی میں نے مطمئن ہوکر اپنی یونیورسٹی اور زندگی کی دوسری مصروفیات کا دوبارہ سے آغاز کردیا، ابھی مجھے یونیورسٹی جاتے دو دن ہی ہوئے تھے کہ مجھے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ کورونا وائرس خون کے سمپل سی بی سی کے ذریعے پکڑا نہیں جاتا اس کے لیے کورونا کا مخصوص ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے۔

تب مجھے جسم میں کمزوری اور چکر آنا شروع ہوئے، 25 فروری کو میرے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑنا شروع ہوگئے، مجھے کھانسی بھی ہونا شروع ہوگئی تھی اور متلی بھی ہورہی تھی، یہ ساری علامات میرے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھیں لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ مجھے سانس لینے میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہورہی تھی۔

ان علامات کے بعد میرے والد نےمجھے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، جس ہسپتال سے میں نے اپنا خون کا ٹیسٹ کروایا تھا وہاں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں تھی، میرے والد مجھے کراچی کے بڑے آغا خان ہسپتال لے گئے، میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا اور میں پاکستان میں کورونا کا پہلا تصدیق شدہ مریض بن گیا۔

مجھ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد مجھے آئسولیشن وارڈ میں شفٹ کردیا گیا جہاں میرا علاج شروع کیا گیا، مجھ میں کورونا وائرس کی تشخیص ابتدائی سٹیج پر ہی ہو گئی تھی اسی وجہ سے اس وائرس سے میرا نظام تنفس متاثر نہیں ہوا تھا،میرے اندر سے خوف کو ختم کرنے میں طبی عملے کا عمل دخل ہے،

انہوں نے مجھے بتایا کہ اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی شرح 1 فیصد ہےاور وہ بھی وہ لوگ جن میں قوت مدافعت کی کمی ہو یا وہ پہلے سے کسی بیماری کے باعث کمزور ہوچکے ہوں، نوجوانوں کے جسم کا دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے اس لیے میرے صحت یاب ہونے کے چانس بہت زیادہ ہیں۔

پاکستان کے پہلے کورونا وائرس مریض یحیی جعفری کو وائرس کیسے لگا؟

آئسولیشن میں میرا بہترین اور پیشہ ورانہ انداز میں علاج کیا گیا، ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے نے کسی بھی معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی، مجھےوارڈ میں اپنے گھر والوں یا کسی عزیز سے ملنے کی اجازت نہیں تھی جو کہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کیونکہ یہ وائرس بہت آسانی سے ایک انسان سے دوسرےا نسان میں منتقل ہوسکتا تھا، عالمی ادارہ صحت کے کچھ آفیشلز نے بھی مجھ سے بیماری کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔

میں نے بہت جلد صحت یابی کا سفر طے کیا ہسپتال میں میرا 3 بار ٹیسٹ کیا گیا یہ تسلی کرنے کیلئے کہ کورونا میرے جسم سے مکمل طور پر نکل چکا ہے، اور اس کے بعد ہسپتال نے مجھے گھر جانے کی اجازت دیدی، اب میں بہت اچھا بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ میں بہترین محسوس کررہا ہوں۔

پاکستان کے پہلے کورونا وائرس مریض یحیی جعفری کو وائرس کیسے لگا؟
اس سارے معاملے میں ایک چیز قابل افسوس تھی وہ میری ذاتی معلومات لیک کرنا تھی، مجھے نہیں معلوم ایسا کس نے کیا لیکن میری تصویر اور میری شناخت کے حوالے سے تمام معلومات انٹرنیٹ پر ڈال دی گئیں جس کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کا شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
میرے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد میری فیملی میرے ساتھ ایران کا سفر کرنے والے تمام افراد کا بھی ٹیسٹ کیا گیا لیکن اللہ کا شکر ہے تمام افراد اس وائرس سے محفوظ ہیں، میری فیملی کے ٹیسٹ کلیئر ہونے کے بعد بھی انہیں اکثر حکومتی اداروں کی جانب سے رابطہ کیا جاتا ہے اور کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے سے متعلق معلومات لی جاتی ہیں، اس حقیقت کے باوجود کہ اب میں بالکل صحت یاب ہوں میں ہر قسم کی احتیاط اور سماجی فاصلہ رکھے ہوئے ہوں ۔

میں سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میرے علاج پر اٹھنے والے تمام اخراجات برداشت کیے میرے والد نے وزیراعلی سندھ کو خط لکھ کر شکریہ بھی ادا کیا ہے جنہوں نے بروقت اقدامات اور بہترین انتظامات سے ملک کے پہلے کورونا وائرس کے کیس پر قابو پایا، میرے خیال سے سندھ حکومت اس معاملے میں تعریف کے قابل ہے جس طرح انہوں نے ایک عالمی وبا کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔

آخر میں میں لوگوں کو کچھ نصیحت کرنا چاہوں گا کورونا وائرس ایک جان لیوا وائرس نہیں ہے .اس سے نوجوان لوگوں کی موت نہیں ہوتی لیکن یہ پھر بھی بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے، سماجی فاصلہ رکھنا اور صفائی کا خیال رکھنے سے ہم باآسانی اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں تو میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ گھروں میں رہیں اور بلا ضرورت باہر مت نکلیں۔
میری لوگوں سے درخواست ہے کہ ماسک پہنیں اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنا ٹیسٹ کروائیں یہ ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہےہمیں حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
انشااللہ بہت جلد یہ وبا تاریخ کا حصہ بن جائے گی، اور جنہوں نے اس کا ڈٹ کر بہادری سے مقابلہ کیا ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مجھے امید ہے کہ پاکستان بہت جلد کورونا وائرس کی اس وبا کو شکست دے دے گا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More