بھارت میں لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد کو کھانے کے لالے پڑ گئے

بھارت میں 21 دن کے لاک ڈاؤن سے ملک کے 45 کروڑ سے زائد دیہاڑی دار افراد کیلئے گھر چلانا ناممکن ہوگیا۔

دو روز قبل وزیراعظم مودی نے ملک میں 21 دن کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا کیونکہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی تھی جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 تھی۔

اس لاک ڈاؤن سے بھارت میں مزدور، تعمیرات کے شعبے سے وابستہ دیہاڑی دار، غریب، ریڑھی بان اور بے گھر افراد شدید متاثر ہورہے ہیں ، سوا ارب سے زائد آبادی والے ملک میں 45 کروڑ سے زائد افراد غیر روایتی معیشت سے وابستہ ہیں جن کا گزر بسر روزانہ کی کمائی سے ہوتا ہے، بھارت میں کروڑوں افراد گاؤں اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف ذریعہ معاش تلاش کرنے کیلئے ہجرت کرتے ہیں اس صورتحال میں یہ طبقہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔


ملک میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ ان تمام نچلے طبقے یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے ایک بے رحم فیصلہ ثابت ہوا، ملک میں صنعتیں، فیکٹریاں، مارکیٹیں، ریسٹورینٹس، اور شاپنگ سینٹرز بند ہونا شروع ہوئے تو لاکھوں افراد کو جان کےلالے پڑ گئے، لوگ بھوک اور افلاس کی زندگی کی طرف جانے لگے اور ملک کے بڑے طبقے میں بے یقینی کی فضا چھا گئی۔


ماہانہ 7000 ہزار روپے کمانے والے ایک مزدور کا کہنا تھا کہ میں ابھی اس مہینے میں کچھ بھی بچا نہیں پایا تھا اب اگلے 21 دن کام نہیں ہوگا تو میں کھاؤں گا کہاں سے، بنگال اور دوسرے صوبوں سے شہروں تک آنے والے لوگ ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے اور لاک ڈاؤن کے باعث درمیان میں پھنس گئے ۔
لوگ سینکڑوں کلومیٹر کا فیصلہ پیدل طے کرنے پر مجبور ہیں،

مزدور اور نچلے طبقے کے لوگ بھوک کا شکار ہیں این جی اوز اور حکومت اس معاملے سے نمٹنے کی کوشش تو کررہی ہیں لیکن یہ مدد بہت محدود پیمانے کی ہے ابھی بھی کروڑں افراد شدید مشکل اور پریشانی میں ہیں جن کیلئے کورونا سے بڑا مسئلہ بھوک اور افلاس ہے۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >