بغیر حفاظتی سامان کرونا کا جعلی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف انکوائری واپس

ڈاکٹر عامر کی جانب سے چند دن قبل سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر پوسٹ کی گئی تھی جن میں وہ سر پر شاپنگ بیگ پہن کر کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کا علاج کررہا تھا،

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کو کسی قسم کا حفاظتی سامان نہیں مہیا کیا گیا ہم اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہے ہیں، واقعے پر محکمہ صحت نے ڈاکٹر کے خلاف جھوٹادعوی کرنے اور ڈرامہ رچانے پر ڈسپلنری ایکشن کا اعلان کرتے ہوئے انکوائری کا فیصلہ کیا تھا۔

صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا نے ایک ویڈیو پیغام میں واقعے کی تمام تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر کے خلاف انکوائری واپس لینے کا اعلان کیا، تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ یہ ڈاکٹر ضلع صوابی کے ایک کیٹیگری ڈی ہسپتال میں کام کرتے ہیں انہوں نے اپنی تصاویر پوسٹ کیں اور پوسٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر کے پاس کورونا وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی سامان پی پی ٹی موجود نہیں ہے، محکمہ صحت نے معاملے کی انکوائری کی تو پتا چلا کہ یہ تمام تصاویر جعلی ہیں اور جس شخص کا معائنہ کیا جارہا تھا وہ بھی ہسپتال کے عملے کا ہی حصہ تھا جس میں کورونا وائرس کا شبہ نہیں تھا، اور شام کے وقت یہ تصاویر اتاری گئیں۔


صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر اخلاقی اقدام تھا، لیکن ایسے حالات میں جب ہمیں ایک ایک ڈاکٹر کی اشد ضرورت ہے میں ڈاکٹر عامر کے خلاف انکوائری واپس لینے کا اعلان کرتا ہوں، اس سے عوام الناس کو غلط پیغام جاتا ہے، ڈاکٹر عامر کی تصاویر پر محکمہ صحت نے مکمل چھان بین کی ہے اور میں اس انکوائری کو نہیں جھٹلا سکتا، لیکن ان حالات میں حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کیلئے اظہار یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ حکومت آپ سب کا خیال رکھے گی اور تمام ضروریات کو پورا کرے گی ، اور ہم اپنی کوششیں کررہے ہیں، آپ اس بحران میں ہمارے صف اول کے سپاہی ہیں ۔


انہوں نے مزید کہا کہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز معاشرے میں افراتفری کا سبب بنیں گی اگر آپ ایسی کوئی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں جس سے کہ لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا ہو تو سو بار سوچیں اور اس کے بعد بھی پوسٹ مت کریں۔

    Minister (3k + posts)

    The Poor Doctors and Medical Staff need protective gear !!!
    They should have been provided these gear long ago…
    If they are still ill equipped then the Health ministry is to be blamed NOT the Doctor who tried in their own way to get attention of those in power to take action against this unavailability of adequate safety equipment …

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More