سندھ حکومت نشہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سو رہی ہے، ہمیں راشن دو یا موت، خاتون کامطالبہ

سندھ میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث سندھ حکومت کی جانب سے سندھ کو لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ساتھ میں غریب اور مزدور طبقے کی مالی امداد کرنے کا دعوی بھی کیا گیا تھا۔ تاہم سندھ میں جگہ جگہ ہوتے احتجاج سندھ حکومت کے بلندوبانگ دعووں کی نفی کر رہے ہیں۔

سندھ کو لاک ڈاؤن کرنے کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے کئے گئے انتظامات کی قلعی کھولتے ہوئے غربت کی ستائی خاتون کا حکومت کو کوستے ہوئے اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ” میں اپنی اس معصوم بچی کے ساتھ دس دنوں سے دھکے کھا رہی ہوں کہیں سے ایک کلوچینی تک نہیں ملی، جبکہ میرا خاوند مجھے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے”

ایک سوال کے جواب میں غربت اور تنگدستی کی ماری خاتون کاکہنا تھاکہ ” میں اپنے گھر کا گزارا بچوں کو قرآن پاک پڑھا کر کر رہی تھی لیکن جب گزارا کرنا نا ممکن ہوا تو میں سڑک پر نکل آئی تاکہ کسی کی غیرت جاگے اور میرے اور میری بیٹی کے لیے راشن کا انتظام کر دے”

سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے غریب خاتون کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے اور نشہ میں ٹن ہو کر سو رہی ہے۔ وزیراعلی سندھ سو رہا ہے جب اس کا اے سی جل جائے گا تو وہ اسی وقت ٹھیک کرنے والے کو بلائے گا اور ٹھیک کروا کر پھر سے سو جائے گا غریب مرتا ہے تو مر جائے کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ تاہم اب حکومت سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں موت دے دی جائے یا راشن دیا جائے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >