مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستانی ارب پتی سیاستدان اور بزنس مین کہاں غائب ہیں؟ رؤف کلاسرا

ملک کو جن کرپٹ اشرافیہ اور کرپٹ بیوروکریٹ کی اس مشکل وقت میں اشد ضرورت ہے وہ ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، روف کلاسرا

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور کالم نگار روف کلاسرا کا کرونا وائرس کے حوالے سے ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھاکہ پاکستان کی اس مشکل ترین حالات میں جہاں مخیر حضرات کی جانب سے غریب عوام کی بڑھ چڑھ کر مدد کی جا رہی ہے وہی پاکستان کی کرپٹ اشرافیہ اور کرپٹ بیوروکریٹ منظرعام سے یا تو غائب ہیں یا ملک سے بھاگے ہوئے ہیں۔

کالم نگار اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ دوسروں پر بات کرنے سے پہلے خود کے گریبان میں جھانک لینا چاہیے اسی طرح سے میں کسی پر تنقید کرنے سے پہلے یہ واضح کر دینا چاہوں گا کہ بزات خود میں نے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاون کی صورتحال میں ڈونیشن دی ہے تاکہ غریب اور مستحق افراد کی مدد کی جا سکے۔ تاہم میں نے اپنے گھر کے ملازمین کو بھی پوری تنخواہ اور راشن کے ساتھ چھٹی دے رکھی ہے۔

راوف کلاسرا کا اپنے ویڈیو پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پوری دنیا کے ملکوں کے انٹرنیشنل پلیئرز ، اداکاراوں اور بزنس مینوں کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے لیے عطیہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ پاکستان میں لاک ڈاون کی صورتحال کو ہماری کرپٹ اشرافیہ کی نسبت ہمسایہ ملک میں سلیبرٹیز کی جانب سے کافی بھاری رقم عطیہ کی جا رہی ہے جو کہ ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

سینِئر کالم نگار کا پاکستان کے نامور بزنس مین، پلیئرز، شوبز کے سٹار اور سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئےسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کہاں ہیں ایسے لوگ جو پاکستان میں اربوں روپے کے کاروبار کرتے تھے اور اربوں روپے وصول کرتے رہے ہیں آج وہ سب کہاں کس کونے میں چھپ کر بیٹھے ہیں جب پاکستان کو اس مشکل گھڑی میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں صاحب حیثیت لوگوں کی جانب سے کروڑوں روپے بطور عطیہ دئیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ کس نے کب اور کتنا پیسہ بنایا جبکہ ان تمام دو نمبر مافیہ نے اندھا پیسہ بنایا جس کا کوئی حساب نہیں۔ اگر کوئی ان سے پوچھ گچھ کے لیے کوئی ان پر ہاتھ ڈال دے تو کہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار اور پاکستان خطرے میں پڑ گیا ہے پتہ نہیں اب کیا طوفان برپا ہو جائے گا۔ اگر ان کرپٹ اور چور مافیا اپنا سارا پیسہ بیرون ملک جانا چاہے تو کوئی انکو چھو بھی نہیں سکتا۔ جبکہ ایسا لوگ لینا جانتے ہیں نہ کہ کچھ دینا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیا گیا 12 ارب روپے جا پیکیج بھی اسی لیے دیا گیا کہ کاروباری حضرات کو ریلیف دیا جائے تاکہ لوگوں کو نوکری نے نہ نکالا جائے جس وجہ سے انکا معاشی قتل نہ ہو اور پاکستان بحران میں ہونے کے باوجود ایک اور بحران کا متحمل نہ ہو جائے۔ جبکہ تمام کاروباری حضرات اور منافع خوروں ، حکومت کا ساتھ دینے کے بجائے ریلیف پیکیج لینے میں مصروف ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ ماسوائے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے جنہوں نے کرونا کی دو سو ٹیسٹنگ کٹس منگوا کر محمکہ صحت کو عطیہ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اصل دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا جسے کہ آصف علی زرداری صاحب جن کی اربوں کی جائیداد ہے نواز شریف صاحب جن کی سینکڑوں ملے اور اکاونٹ میں اربوں روپے کے ڈھیر لگے یوئے ہیں۔ ان کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا۔ حکومتی جماعت کے کارکن علیم خان، جہانگیر ترین یا چوہدری سرور اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی حوصلہ افزاء کام نہیں کیا گیا جو دوسرے طبقے کے لوگوں کے لیے بھی ایک برا تاثر ہے۔

    انتہا ہے ویسے منافقت کی، پہلے آپ ولاگ میں رونا رو رہے تھے کہ پاکستان میں صاحبِ ثروت لوگ مدد کے لئے میدان میں نہیں آ رہے۔ اب آپ ارشد شریف کی گھٹیا ٹویٹ کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ لوگوں کی مدد کرنے کے جزبے کو لے کر والنٹیر کرنے والوں کو عمران خان کے کتے سے مماثلت دے کرآپ کونسی ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More