کرونا سے بچنا ہے،لاہور میں سینیٹائزر واک تھرو گیٹ تیار

چین,ترکی اور انڈونیشیا کی مساجد اور دیگر مقام پر کرونا وائرس سے بچنے کیلئے جراثیم کش واک تھرو گیٹ نصب کئے گئے جس سے گزر کر جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے اسی طرح لاہورکی نجی کمپنی کے انجینیئر کلیم اللہ نے دعوی کیاہے کہ انہوں نے بھی اس طرز کا سینیٹائزڈ واک تھرو گیٹ تیار کرلیا ہے.جس سے گزرنے پر جراثیم کش اسپرے ہوتا ہے.

 انجینیئر کلیم اللہ چوہدری کے کہا کہ اس گیٹ سے گزرنے پر ممکنہ طور پر جسم پر موجود جراثیم مر جائیں گے.ان کا کہنا تھا کہ کرونا کا علاج نہیں لیکن احتیاط سے اس وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے.

کلیم اللہ نے بتایاکہ چین میں موجود انکےدوست نے ایسا کامیاب تجربہ کیاتھا جس کے بعد جب پاکستان میں یہ وبا پھیلی تو دوست کی مدد سے
جراثیم کش گیٹ تیار کیا.. جس میں کلورین، میتھنول، ڈیٹول اور پانی کا مکسچر موجود ہے جو جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے.کلورین جراثیم کو کمزور کردیتا ہے. انہوں نے اس حوالے سے پمز اسپتال کے ڈاکٹر اشعر سے پوچھا تھا کہ کلورین ملا محلول  جراثیم کے خلاف کتنا موثر ہے

لاہور: کرونا وائرس سے بچنے کے لیے جراثیم کش واک تھرو گیٹ تیار

لاہور: کرونا وائرس سے بچنے کے لیے جراثیم کش واک تھرو گیٹ تیارپاکستانی انجینیئر کلیم اللہ چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چین اور ترکی کی طرز کا واک تھرو گیٹ تیار کیا ہے جس میں سے گزرنے سے جسم پر جراثیم کش سپرے ہوتا ہے۔https://www.independenturdu.com/node/32761/

Posted by Independent Urdu on Monday, March 30, 2020

 

تو انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں بھی مریض کے استعمال کی اشیا یا کمرہ جراثیم سے پاک کرنے کے لیے کلورین میتھنول ملے محلول سے بنے اسپرے کا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ اسپرے لیبارٹری ٹیسٹد ہے جس میں وہی فارمولا استعمال کیا گیا جو لیبارٹری میں جراثیم کش اسپرے بنانے میں کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واک تھرو گیٹ سے گزرنےپر پھوار ہوگی اس میں موشن سینسر لگے ہیں جو داخل ہونےپرا سپرے کرے گا. اور بیس سیکنڈ تک جاری رہے گا. واک تھرو کے ساتھ منسلک ٹینک میں محلول ہو گا اور یہ ایک گھنٹے میں سات لیٹر اسپرے کرے گا.

کلیم اللہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک ہفتے میں اس گیٹ کو تیار کیا اور پہلی بار میں ہی کامیاب رہا. گیٹ بنانے میں دو لاکھ لاگت آئی ہے.
.

کلیم اللہ نے کہا کہ واک تھرو گیٹ کواسپتالوں، پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر پر لگایا جانے کو ترجیح دی جائے اور اگر حکومتی تعاون ہوتو مزید تبدیلیاں بھی لائی جائیں گی۔اس سلسلے میں کلیم اللہ کی گورنر پنجاب سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے لیے اس گیٹ کا آرڈر دیا اور لاہور کی دیگر یونیورسٹیز نے بھی آرڈر دیئے ہیں.جبکہ
اسپتالوں میں اس گیٹ کو لگانے کے لیے ان کی وزیر صحت یاسمین راشد سے بھی ملاقات ہوگی.

اس سے قبل جھنگ کی سبزی منڈی میں بھی سینیٹائزر گیٹ نصب کیا جاچکا ہے.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More