کورونا سے محفوظ رہنے کے لئے ملیریا کی دوا کھانے والا ڈاکٹر زندگی کی بازی ہار گیا

تفصیلات کے مطابق کرونا کا خوف ہر سو پھیلتا جا رہا ہے اسی خوف میں مبتلا ہوکر خطرناک عالمی وبا کرونا وائرس سے بچنے کے لئے بھارتی ریاست آسام کے ایک ڈاکٹر نے ملیریا سے بچاؤ کی دوا کھائی جس پر ڈاکٹر کی طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر جانبر نہ ہو سکا اور جاں بحق ہو گیا۔

بھارتی 44 سالہ اُتپل جیت برمان نامی ڈاکٹر نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئن اپنی ذمہ داری پر کھائی تھی جسے کھانے کے بعد ڈاکٹر کو دل کا دورہ پڑا جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں دیگر ڈاکٹرز کی جانب سے اس کی زندگی بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ ناکام رہے۔

ذرائع ابلاغ کا ڈاکٹر کی موت کے حوالے سے کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ ڈاکٹر کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی یا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ تاہم اس حوالے قبل از وقت کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہوگا جبکہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد پتہ چل سکے گی۔

ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے ملیریا کی دوا کھانے کے بعد اپنے دوست کو واٹس ایپ پر میسج کیا تھا کہ ملیریا کی دوا کھانے سے اس کی حالت بگڑ رہی ہے اور اسے کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہو رہا اور وہ نہیں جانتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ (ایف ڈی اے) نے وقتی طور پر کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں بڑھتی اموات پر قابو پانے کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکوئن سلفیٹ اور کلوروکوئن فاسفیٹ پراڈکٹس کو کرونا وائرس کے مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرانے کی اجازت دی ہے۔

امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ نے ملیریا سے بچاؤ کیلئے استعمال ہونے والی ہائیڈروکسی کلوروکوئن نامی دوا کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا کرونا کے شکار ہر مریض کے استعمال کرنے کے لئے ہرگز نہیں ہے۔ تاہم اس کے بلا ضرورت استعمال سے زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Minister (4k + posts)

    Every good doctor knows that rhis medicine may cause severe cardiac arrest and cannot be used as preventive medicine and should be taken in hospital under observation. Sad incident.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More