پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن ہے جس کے باعث تمام تر معاشی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں، اس تعطل کے باعث جہاں معیشت کا شدید نقصان ہورہا ہے، غریب اور نادار لوگوں کیلئے گھروں میں بیٹھ کرکھانے کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں، پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث لوگ بھوک اور تنگ دستی کا شکار ہیں،

مغرب میں لوگوں نے اسلحے کے زور پر راشن چھیننا شروع کردیا جبکہ صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے گھروں پر کثیر مقدار میں راشن ذخیرہ کرلیا جس سے مارکیٹ میں اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی اور کھانے پینے کی اشیاء غائب یا مہنگی ہوکر متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد
وزیراعظم پاکستان نے حالیہ خطاب میں بتایا کہ پاکستان میں 25 فیصد آبادی 2 وقت کی روٹی خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتے ، آئے دن ایسی خبریں سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں جہاں لوگ راشن اور کھانے پینے کی اشیاء کیلئے در بدر ہورہے ہیں یا حکومتوں سے اپیل کررہے ہیں کہ ان کیلئے کوئی انتظام کریں تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں، ایسے ماحول میں پاکستانی معاشرے میں ایک اسلامی مثال دیکھنے کو مل رہی ہے جس سے پاکستان اور اسلام کے دنیا بھر کے تصور میں مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے۔

لاک ڈاؤن کا دوسرا ہفتہ ہےاور ڈیلی کمائی کرنے والے افراد یا عارضی نوکری پیشہ افراد کیلئے آنے والے دن بھوک اور پیاس کا خوف لیے ہوئے ہیں، وزیراعظم نےا پنے بیان میں تسلیم کیا کہ اگر ہم نے لاک ڈاؤن کو جاری رکھا تو ہم قوم کو ایک طرف کورونا وائرس سے بچا تو لیں گے لیکن دوسری جانب سے یہ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد
مگر پاکستانی معاشرے میں ایک اسلامی قانون کی مثال دکھنے کو مل رہی ہے جس سے غریب اور مسکین افراد کیلئےامید کی ایک کرن بندھ گئی ہے کہ کوئی یہاں بھوکا نہیں سوئے گا، پاکستان میں صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے مال کی زکوۃ نکالنا شروع کردی ہے اور خیرات سے غریبوں کو امداد کرنے کی لاتعداد مثالیں ملک میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

اسلام کے اس قانون کی اہمیت دنیا پر اس مشکل کے وقت میں عیاں ہوگئی ہے جب امیر اور غریب ایک ہی مصیبت اور پریشانی میں برابر قید ہیں، ایسے وقت میں امیر اور مخیر حضرات کی جانب سے اپنے مال کی زکوۃ نکالنے کے اسلامی قانون نے ملک میں غریب افراد کیلئے غیبی راستہ کھولا ہے، کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ پتھر میں موجود کیڑے کو بھی رزق عطا کرتا ہے تو وہ اپنے بندوں کو بھوکا کیسے چھوڑ سکتا ہے،

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد

ملک بھر میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر لوگوں کی جانب سے غریبوں اور سفید پوش مفلس افراد کی مدد کی جارہی ہے، لوگوں نے اپنے مال کی سالانہ زکوۃ جو عموما رمضان کے مہینے میں نکالی جاتی تھی ابھی نکالنا شروع کردی ہے اور خیرات کے عمل کو تیز کردیا ہے۔

اسلام میں مال کی زکوۃ دینا ہر صاحب ِ حیثیت پر فرض ہے، اس قانون کے تحت ہر شخص جس کا مال ایک مقررہ مقدار سے زیادہ ہوگا وہ اس مال کا ڈھائی فیصد غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کردے گا، اسلام کے اس قانون سے وسائل کی تقسیم کو معاشرے میں بہتر بنایا گیا ہے اگر دنیا کا ہر شخص جس پر زکوۃ فرض ہوتی ہے پوری ایمانداری سے اپنے مال کی زکوۃ نکال کر مستحق افراد تک پہنچائے تو دنیا کا کوئی انسان بھوکا نہ رہے۔

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد
کورونا وائرس کے اس بحران میں جہاں پوری دنیا جسمانی صفائی کی ترغیب دے رہی ہے ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے ایک پروفیسر نے زکوۃ کو روحانی صفائی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پیسہ ہاتھ کا میل ہے ۔ اس میل کو دور کرنے کیلئے اس میں مستحقین کا جو حق شریعت نے متعین کیا ہے وہ ادا کریں تاکہ آپ کے مال کی بھی صفائی ہوسکے۔

اسلامی تعلیمات کے تناظر ہے میں ہر اس شخص سے سوال کیا جائے گا جس کا گھر میں کھانا موجود ہو اور اس کا پڑوسی بھوکے پیٹ سوئے، پاکستان میں زکوۃ اور خیرات کےاصول پر اسلامی دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ زور و شور سےعمل کیا جاتا ہے، پاکستان ان 6 ممالک میں سے ایک ہے جہاں زکوۃ حکومتی سطح پر وصول کرنے کا نظام موجود ہے۔

پاکستان میں زکوۃ کے اسلامی قانون سے لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مدد
آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک ورلڈکے مصنف کے مطابق پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا واحد ملک ہےجہاں اسلامی تعلیمات پر روحانی طور پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

کورونا وائرس کے اس بحران میں متعدد پاکستانیوں کی جانب سے اپنے مال کا ڈھائی فیصد زکوۃ میں دیا جارہا ہے جبکہ دیگر افراد جن پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی اپنی حیثیت کے مطابق خیرات کررہے ہیں اور ان عطیات سے مستحقین کی مدد جاری ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More